بولیویا کے فلم ساز آلوارو اولموس توریكو اپنی نئی فیچر فلم چیچا فینٹسی پر کام کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ان کی حالیہ فلم دی کونڈور ڈاٹر عالمی فلمی حلقوں میں توجہ حاصل کر رہی ہے۔ تجارتی اشاعتی ادارے ورائٹی نے اس نئے منصوبے کو توریكو کی آئندہ فلم قرار دیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہدایت کار اب اپنی بین الاقوامی شناخت کو اگلے مرحلے میں لے جانا چاہتے ہیں۔
یہ اعلان محض ایک نئی فلم کی خبر نہیں، بلکہ ایک ایسے ہدایت کار کی پیش رفت بھی ہے جس کی پچھلی فلم نے فیسٹیول سرکٹ میں اپنی جگہ بنائی۔ دی کونڈور ڈاٹر نے 2025 میں سینے لاطینو ٹولوز میں آرتھاؤس سنیما ایوارڈ اپنے نام کیا تھا۔ فیسٹیول مواد کے مطابق یہ بولیویا، پیرو اور یوراگوئے کی مشترکہ پروڈکشن تھی، جسے توریكو نے خود تحریر اور ہدایت کیا۔ یہی کامیابی اب ان کے نئے منصوبے کو بھی زیادہ توجہ دلا رہی ہے۔
چیچا فینٹسی کے بارے میں جو ابتدائی معلومات سامنے آئی ہیں، وہ اس فلم کو خاصا سنجیدہ اور تہہ دار منصوبہ ظاہر کرتی ہیں۔ ایک فیسٹیول پروجیکٹ صفحے کے مطابق اس کہانی کا مرکز 15 سالہ کیچوا لڑکی میریلی ہے، جو اپنی بہن کی موت کے بعد سچ کی تلاش میں نکلتی ہے۔ اس جستجو کے دوران وہ ایک ایسے استحصالی نیٹ ورک تک پہنچتی ہے جو مقامی یا دیسی لڑکیوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے نشانہ بناتا ہے۔ عنوان بظاہر رنگین یا ہلکا محسوس ہو سکتا ہے، مگر کہانی اس کے برعکس کہیں زیادہ تاریک اور سماجی طور پر حساس معلوم ہوتی ہے۔
یہ بھی دلچسپ ہے کہ توریكو کے کام میں موضوعاتی تسلسل صاف دکھائی دیتا ہے۔ دی کونڈور ڈاٹر بھی ایک نوجوان کیچوا کردار کے گرد گھومتی ہے، جو روایت، شناخت اور بدلتی دنیا کے دباؤ کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ نئی فلم بھی بظاہر انہی علاقوں، انہی برادریوں اور انہی پیچیدہ سماجی حقیقتوں کو ایک مختلف مگر زیادہ سخت زاویے سے دیکھتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ توریكو صرف کہانیاں نہیں سنا رہے، بلکہ اینڈیز کے مقامی معاشروں میں نوجوان خواتین کے تجربات کو بار بار مرکز میں لا رہے ہیں۔
فلمی صنعت میں ایسے لمحات اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ایک فلم کامیاب ہوتی ہے، نام بنتا ہے، اور پھر اگلا منصوبہ پہلے سے زیادہ سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ توریكو اس وقت شاید اسی مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ چیچا فینٹسی ابھی ابتدائی توجہ میں ہے، لیکن اس کے موضوع، علاقائی شناخت اور ہدایت کار کے حالیہ فیسٹیول ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ فلم آنے والے مہینوں میں بین الاقوامی سطح پر مزید گفتگو کا حصہ بن سکتی ہے۔
