امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جوہری مذاکرات نے ایک بار پھر اس گہری بداعتمادی کو نمایاں کر دیا ہے جو دونوں ممالک کے تعلقات کی ایک اہم خصوصیت بن چکی ہے۔ اگرچہ دونوں فریق اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مذاکرات ہوئے ہیں، لیکن ان مذاکرات کے بارے میں ان کے متضاد بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اہم معاملات پر اب بھی ان کے درمیان کافی فاصلے موجود ہیں۔
سفارتی مذاکرات اکثر بند کمروں میں ہوتے ہیں، اور یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں کہ حکومتیں اپنے عوام کے سامنے واقعات کی مختلف تشریحات پیش کریں۔ تاہم، جب سرکاری بیانات میں فرق بہت زیادہ ہو جائے تو شفافیت اور حقیقی پیش رفت کے امکانات کے بارے میں سوالات پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
امریکی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو توجہ اس بات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیتوں میں مزید پیش رفت کو روکا جائے اور بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ امریکی حکام بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ نگرانی کے مؤثر نظام اور طویل مدتی وعدے ضروری ہیں تاکہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کو محدود رکھا جا سکے۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اس کے حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ایرانی حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پابندیوں میں نرمی ضروری ہے کیونکہ معاشی پابندیاں بہتر تعلقات اور کامیاب مذاکرات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔
حالیہ مذاکرات کے بارے میں سامنے آنے والے متضاد بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ممکنہ طور پر دونوں فریق کسی حتمی معاہدے سے پہلے عوامی رائے کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگرچہ اس قسم کی حکمتِ عملی اندرونِ ملک سیاسی فوائد فراہم کر سکتی ہے، لیکن اس سے ابہام پیدا ہونے اور مذاکراتی عمل پر اعتماد کم ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
میری رائے میں سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو اختلافات کا موجود ہونا نہیں بلکہ اعتماد کی شدید کمی ہے۔ کامیاب سفارت کاری کے لیے حقائق اور مقاصد کے بارے میں مشترکہ سمجھ بوجھ ضروری ہوتی ہے۔ جب دونوں فریق ایک ہی گفتگو کو بالکل مختلف انداز میں پیش کریں تو یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ واقعی کوئی پیش رفت ہو رہی ہے یا نہیں۔
اس کے باوجود، محاذ آرائی کے مقابلے میں مکالمہ ہمیشہ بہتر راستہ ہے۔ امریکہ اور ایران کے تعلقات کی تاریخ یہ ظاہر کرتی ہے کہ رابطے اور بات چیت کے ادوار، چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، مکمل قطع تعلقی کے مقابلے میں زیادہ استحکام فراہم کرتے ہیں۔ مسلسل مذاکرات غلط فہمیوں کو کم کرنے اور پہلے سے غیر مستحکم خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خطرات کو محدود کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
بالآخر کسی بھی مستقبل کے معاہدے کی کامیابی کا انحصار عوامی بیانات پر نہیں بلکہ عملی اقدامات پر ہوگا۔ دونوں ممالک کو جائز سکیورٹی اور معاشی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے مفاہمت اور لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اس وقت تک متضاد بیانیے سفارتی عمل کا ایک مستقل حصہ بنے رہنے کا امکان رکھتے ہیں۔
موجودہ صورتحال اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ بین الاقوامی مذاکرات صرف تنازعات کے حل کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ عوامی تاثر کو تشکیل دینے کا عمل بھی ہوتے ہیں۔ یہ مذاکرات کسی بڑی پیش رفت کا باعث بنتے ہیں یا ایک اور تعطل کا شکار ہوتے ہیں، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں فریق بیانات اور دعووں سے آگے بڑھ کر عملی اور قابلِ عمل حل تلاش کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔
