اسلام آباد: کالعدم تنظیم کے سابق کمانڈر گلزار امام شمبے نے انکشاف کیا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس سے منسلک گروہ اپنی مسلح جدوجہد کے لیے بھارتی معاونت اور منشیات کی اسمگلنگ پر انحصار کرتے رہے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں شمبے نے الزام عائد کیا کہ سینئر عسکریت پسند رہنما غفار لانگو نے ڈاکٹر نجیب کی افغان حکومت کے خاتمے کے بعد خیر بخش مری کا ساتھ دیا اور بعدازاں بلوچستان کے پہاڑوں میں مسلح بغاوت کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق یہ رویہ ایک وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جہاں بی ایل اے اور اسی نوعیت کے گروہ ’’بھارتی مدد سے انکار نہیں کر سکتے۔‘‘
شمبے نے قوم پرست رہنما عطااللہ مینگل کے اس جملے کا حوالہ دیا: “اگر شیطان بھی پاکستان کے خلاف مدد دے تو لے لو۔” ان کا کہنا تھا کہ اسی سوچ نے عسکریت پسند گروہوں کو غیر ملکی فنڈنگ، منشیات اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں پر انحصار کرنے پر مجبور کیا۔
دو سال قبل ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہونے والے سابق کمانڈر نے مزید دعویٰ کیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) جیسی تنظیمیں دراصل عسکریت پسندی کے لیے ’’نرسری‘‘ کا کردار ادا کرتی ہیں، جہاں طالب علم گروپوں کو بھرتی اور شدت پسندی کی تربیت دی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گروہی اختلافات اکثر خونریز تصادم میں بدل جاتے تھے، جیسا کہ 2014–15 میں ان کے ساتھیوں اور براہمداغ بگٹی کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں میں ہوا۔ ان کے بقول ہلاک ہونے والے جنگجوؤں کے خاندانوں کو بھی حقائق سے گمراہ کیا گیا۔
علاقائی تناظر میں شمبے نے کہا کہ بی ایل اے کو افغانستان میں اب بھی محفوظ پناہ گاہیں اور ہتھیار ملتے ہیں، جن میں وہ جدید امریکی اسلحہ بھی شامل ہے جو جنگ کے بعد افغان بلیک مارکیٹ میں دستیاب ہے۔
شمبے نے عسکریت کو حل کے طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دیرپا نتائج صرف سیاسی جدوجہد اور مفاہمت کے ذریعے حاصل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: تمام مزاحمتی تحریکیں بالآخر یہ تسلیم کرتی ہیں کہ ہتھیار مسئلے کا حل نہیں۔ ہم نے بھی بندوق چھوڑ کر سیاست کی طرف واپسی کا فیصلہ کیا۔
