لاہور: لاہور پولیس نے جمعہ کے روز تصدیق کی کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے چھوٹے بیٹے شیرشاہ خان کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا گیا، یہ اقدام ایک روز بعد سامنے آیا جب ان کے بڑے بیٹے شاہریز خان کو بھی مئی 9 فسادات کے مقدمات میں حراست میں لیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق شیرشاہ کو لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت میں اپنے بھائی کے مقدمے کے سلسلے میں پیشی کے بعد حراست میں لیا گیا۔ علیمہ خان کی وکیل ایڈووکیٹ رانا مدثر عمر نے گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا۔
پی ٹی آئی نے ایک بیان میں گرفتاری کو “اغوا” قرار دیا اور الزام لگایا کہ ملک میں “قانون کی حکمرانی کو جنگل کے قانون سے بدل دیا گیا ہے۔” علیمہ خان نے بھی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ان کے گھر پر دھاوا بولا، عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا، بہو کو ہراساں کیا اور ان کے بیٹے شاہریز کو ان کی دو کمسن بیٹیوں کے سامنے زبردستی لے گئے۔
انہوں نے کہا کہ “تین سال سے جاری اس جبر کے باوجود عمران خان نے استقامت کی ایک غیر معمولی مثال قائم کی ہے” اور انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ عمران خان کا پیغام پہنچاتی رہیں گی۔
دوسری جانب شاہریز خان کو جمعہ کے روز لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں جج منظر علی گل نے انہیں مئی 9 جناح ہاؤس حملہ کیس میں آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ تفتیشی افسر نے 30 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی تھی جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل اور شاہریز کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے گرفتاری کو “جھوٹا اور سیاسی انتقام پر مبنی” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کا مؤکل مئی 9 کے واقعات کے دوران لاہور میں موجود ہی نہیں تھا۔ انہوں نے گرفتاری کو عمران خان کو ضمانت ملنے کے فیصلے کا ردعمل قرار دیا۔
یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے جن میں سرکاری عمارتوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات کے بعد ہزاروں کارکنان اور رہنما گرفتار کیے گئے۔
