اداکارہ اور میزبان فضا علی نے حال ہی میں پاکستانی تفریحی صنعت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ ٹی وی پروگرامز، خصوصاً “لازوال عشق” جیسے شوز، ہماری معاشرتی اقدار اور اخلاقی حدود کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
فضا علی کے مطابق آج کل کے کئی پروگرامز ایسے رویوں کو “نارمل” دکھا رہے ہیں جو ہماری روایات اور خاندانی نظام سے میل نہیں کھاتے۔ انہوں نے کہا، “ڈیٹنگ اور فحاشی کو خوبصورت انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جیسے یہ کوئی عام بات ہو۔ یہ نوجوان نسل کے لیے خطرناک رجحان ہے۔”
اداکارہ نے میڈیا کے کردار پر بھی سوال اٹھایا، ان کا کہنا تھا کہ تفریح کے نام پر معاشرتی بگاڑ کو فروغ دینا انتہائی تشویشناک ہے۔ “ٹی وی وہ پلیٹ فارم ہے جس سے عوام سیکھتی ہے، خاص طور پر بچے اور نوجوان۔ اگر ہم ان کے سامنے غلط مثالیں رکھیں گے، تو ان کی سوچ بھی ویسی ہی بنے گی،” فضا علی نے کہا۔
ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔ کچھ صارفین نے فضا علی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی میڈیا مغربی انداز کو اپنا کر “ثقافتی حدود پار کر رہا ہے”، جبکہ دیگر نے کہا کہ ایسے پروگرامز صرف تفریح کے لیے بنائے جاتے ہیں اور ہر ناظر کو اپنی پسند کا انتخاب کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔
ادھر بعض شہریوں نے پیمرا میں شکایات درج کراتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ “لازوال عشق” جیسے شوز اخلاقی حدود سے تجاوز کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایک درخواست بھی دائر کی گئی ہے جس میں ان پروگراموں کے مواد کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
فضا علی کے بیان نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ پاکستانی تفریحی صنعت کو کہاں تک آزادی حاصل ہونی چاہیے اور اس آزادی کی حدود کون طے کرے گا۔ ایک طرف تخلیقی اظہار کی آزادی ہے، تو دوسری طرف معاشرتی اقدار کا تحفظ۔ لیکن جیسا کہ فضا علی نے کہا — “تفریح اگر بگاڑ بن جائے تو یہ فن نہیں رہتا، ذمے داری بن جاتی ہے۔”
