اسلام آباد — 18 ستمبر 2025
سپریم کورٹ میں جمعرات کے روز ایک اہم پیش رفت ہوئی جہاں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما لطیف کھوسہ نے پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کا خط چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کے سپرد کیا۔ یہ خط، جو 16 ستمبر کو تحریر کیا گیا، عمران خان کی قید، زیر التوا مقدمات اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے کے حوالے سے شکایات پر مشتمل ہے۔
کھوسہ کے مطابق چیف جسٹس نے تمام نکات تحمل کے ساتھ سنے اور یقین دہانی کرائی کہ یہ شکایات تحریری طور پر جمع کرائی جائیں تو انہیں 24 گھنٹوں میں نمٹایا جائے گا۔
عمران خان کی جیل سے شکایات
خط میں عمران خان نے بتایا کہ انہیں ایک 9 بائے 11 فٹ کے سیل میں رکھا گیا ہے جسے وہ "تنہائی کی قید” قرار دیتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، جیسے کتابوں اور اخبارات تک رسائی۔ اس کے علاوہ انہیں اپنے بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی جبکہ اہلِ خانہ سے طے شدہ ملاقاتیں بھی اکثر بنا وجہ منسوخ کر دی جاتی ہیں۔
عمران خان نے اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کی حالت پر بھی گہری تشویش ظاہر کی جو بنی گالہ میں قید ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کو علاج معالجے کی سہولت نہیں دی جا رہی، انہیں تنہا رکھا گیا ہے اور بات چیت کے ذرائع بھی محدود کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے اس طرزِ عمل کو غیر انسانی اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔
عدالتی مقدمات اور خدشات
پی ٹی آئی بانی نے ذاتی شکایات کے ساتھ ساتھ عدالتی معاملات پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ سمیت اہم مقدمات اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں لیکن بار بار درخواست دینے کے باوجود ان کی سماعت مقرر نہیں کی جا رہی۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ 26ویں آئینی ترمیم کو ججوں کی آزادی کمزور کرنے اور مقدمات پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ عمران خان کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمات کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے جبکہ ان کی درخواستوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
چیف جسٹس کا ردعمل
کھوسہ کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اطمینان بخش انداز میں بات سنی اور کہا کہ کوئی بھی حقیقی شکایت نظر انداز نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام شہریوں کے بنیادی حقوق، خواہ وہ سیاسی قیدی ہی کیوں نہ ہوں، آئین اور قانون کے مطابق تحفظ پائیں گے۔
پس منظر
اس سے قبل عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے بھی یہی خط چیف جسٹس کو دینے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں پولیس نے عدالت کے باہر روک دیا تھا کیونکہ انہیں اجازت نامہ حاصل نہیں تھا۔ پی ٹی آئی مسلسل دعویٰ کرتی آ رہی ہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت کو نہ سیاست میں برابری کے مواقع دیے جا رہے ہیں اور نہ ہی عدالتوں میں۔
فی الحال سب کی نظریں سپریم کورٹ پر جمی ہیں کہ آیا عمران خان کی شکایات — خاص طور پر جیل کی صورتحال اور بشریٰ بی بی کے ساتھ سلوک — عملی عدالتی کارروائی میں ڈھل پاتی ہیں یا نہیں۔
