مالاکنڈ – خیبرپختونخوا کے ضلع مالاکنڈ میں حساس اطلاعات پر مبنی ایک بڑے انسداد دہشتگردی آپریشن کے دوران کم از کم نو دہشت گرد مارے گئے جبکہ آٹھ کو زندہ گرفتار کر لیا گیا۔ یہ اطلاع پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے اتوار کے روز دی گئی۔
ترجمان کے مطابق یہ آپریشن 16 جولائی سے 20 جولائی تک جاری رہا، جس میں سیکیورٹی فورسز نے پولیس، لیویز، انسداد دہشت گردی محکمہ (سی ٹی ڈی) اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے کارروائی کی۔ کارروائی کا مقصد خطے میں موجود “فتنہ الخوارج” سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کا خاتمہ تھا۔
فوجی دستوں نے خفیہ اطلاعات پر علاقے کا محاصرہ کیا، جس کے بعد دہشتگردوں سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ مقابلے کے نتیجے میں 9 دہشتگرد مارے گئے جبکہ 8 کو حراست میں لیا گیا۔ اس دوران دہشت گردوں کے دو ٹھکانے بھی تباہ کر دیے گئے اور بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد قبضے میں لیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں بعد ازاں کلیئرنس آپریشن بھی کیا گیا تاکہ ممکنہ خطرات کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
فوج کے بیان میں کہا گیا کہ مقامی عوام نے آپریشن کو سراہا اور دہشتگردی کے خلاف ریاستی اقدامات کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔
صدر اور وزیرِ اعظم کی جانب سے خراجِ تحسین
صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو سراہا۔
صدر زرداری نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے، اور بھارت کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والے فتنے کو ختم کرنے کے لیے ریاست ہر ممکن اقدام کرے گی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے مشترکہ آپریشن کو اداروں کے درمیان مثالی ہم آہنگی قرار دیا اور کہا کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
خطے میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر
یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب پاکستان، خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان، میں دہشتگردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ طالبان کے افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے سرحدی علاقوں میں حملوں میں نمایاں شدت آئی ہے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ برائے تنازعات و سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کے مطابق، مئی 2025 میں دہشت گردی کے 85 واقعات پیش آئے، جو کہ اپریل کے 81 حملوں کے مقابلے میں 5 فیصد زیادہ ہیں۔
ان حملوں میں 113 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 52 سیکیورٹی اہلکار اور 46 عام شہری شامل تھے، جبکہ 182 افراد زخمی ہوئے۔ عام شہریوں کے زخمی ہونے کی شرح میں 145 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی شہادتوں میں 73 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
تاہم اسی عرصے کے دوران ریاستی اداروں کی کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم 59 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ بھرپور انداز میں جاری ہے۔
