ابھرتے ہوئے اداکار نامیر خان، جنہیں حال ہی میں ڈرامہ قرضِ جاں میں اداکاری پر خوب سراہا گیا، نے معروف ٹاک شو مزاق رات میں شرکت کے دوران انکشاف کیا کہ انہوں نے اس ڈرامے کی کامیابی کے بعد 11 اسکرپٹس کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ صرف ایسے منصوبوں کا حصہ بننا چاہتے ہیں جن کی کہانی مضبوط ہو اور جو ناظرین کے لیے مثبت پیغام لے کر آئیں۔
نامیر خان نے شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا،
"میں اپنے کیریئر کے اس مرحلے پر ہوں جہاں میں ایسی کہانیوں کا حصہ بننا چاہتا ہوں جو کچھ بدل سکیں۔ ایسی کہانیاں جو منفی رجحانات کو فروغ دیں یا جن میں جذباتی گہرائی نہ ہو، ان کا میں حصہ نہیں بن سکتا۔ اگر کوئی کہانی متاثر نہ کرے یا دل کو نہ چھوئے، تو وہ میرے لیے نہیں ہے۔”
ان کے اس بیان کو مداحوں کی جانب سے خوب پذیرائی ملی، جنہوں نے معیاری اور بامقصد مواد کے لیے ان کے عزم کو سراہا۔ جیسے جیسے ناظرین گہرائی اور مقصدیت پر مبنی ڈراموں کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں، ویسے ویسے نامیر کا محتاط انتخاب پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں ایک مثبت رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
اگرچہ انہوں نے اب تک اپنے اگلے پراجیکٹ کا اعلان نہیں کیا، تاہم نامیر خان کا کہنا تھا کہ وہ مختلف اسکرپٹس پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا وعدہ تھا کہ ان کا اگلا کردار بامقصد، مؤثر اور مداحوں کے انتظار کے قابل ہوگا۔
