بھارتی موسیقار یشراج مکھاٹے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی ہے—اس بار انہوں نے پاکستانی پاپ گلوکارہ اینی خالد کے 2006 کے مقبول گانے ماہیا پر ایک مزاحیہ انداز میں نیا ری مکس تیار کیا ہے۔ یہ ویڈیو، جس میں ایک وائرل انٹرویو کلپ کو گانے کے ساتھ جوڑا گیا ہے، انسٹاگرام پر 1 کروڑ 20 لاکھ سے زائد ویوز اور 8 لاکھ 50 ہزار لائکس حاصل کر چکی ہے، اور تیزی سے ایک بین الاقوامی میم بن گئی ہے۔
اس ویڈیو میں ایک جنوبی ایشیائی شخص کو انٹرویو کے دوران یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے:
"رشتہ دار والا جو لفظ ہے نا، وہ جہاں بھی آجائے، پسند ہی نہیں۔”
یشراج نے اس جملے کو ماہیا کی دھن پر تخلیقی انداز میں ترتیب دیا ہے، اور نئے مزاحیہ بول شامل کیے:
“میری بُوا کی بھابھی کے بیٹی کی شادی میں کیوں جاؤں، ماہیا؟ کہ ہوں میں پریشان، ماہیا!”
یہ ویڈیو سرحد کے دونوں جانب شوبز شخصیات کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ماورا حسین، زویا ناصر، عمیر رانا اور بھارتی کوریوگرافر فرح خان کندر نے اس ری مکس کی تعریف کی۔ خود اینی خالد نے ہنستے ہوئے ایموجیز اور “اوہ یہ، یہ!” کے تبصرے سے ردعمل دیا، جس پر یشراج نے انہیں “The OG” یعنی اصل لیجنڈ قرار دیا۔
یشراج مکھاٹے اس سے قبل راسودے میں کون تھا؟ اور پاوری ہو رہی ہے جیسے وائرل میوزک کلپس کے ذریعے شہرت حاصل کر چکے ہیں، جن میں مزاح اور موسیقی کو خوبصورتی سے جوڑا گیا تھا۔ پاوری ہو رہی ہے دراصل پاکستانی سوشل میڈیا اسٹار دانانییر مبین کی ایک ویڈیو پر مبنی تھی۔
اینی خالد کا گانا ماہیا 2006 میں ان کے پہلے البم Princess کا حصہ تھا، جس نے ریلیز ہوتے ہی مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دیے۔ اس کی رومانوی دھن اور پرکشش میوزک ویڈیو نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے جنوبی ایشیائی ناظرین کو متوجہ کیا۔ بعد ازاں یہ گانا 2007 کی بالی ووڈ فلم عوارہ پن میں سوزین ڈی میلّو کی آواز میں دوبارہ شامل کیا گیا، مگر اینی خالد کا اصل ورژن آج بھی ایک کلاسک شمار ہوتا ہے۔
ماہیا نہ صرف ایک کامیاب گیت ثابت ہوا بلکہ اس نے پاکستانی خواتین گلوکاراؤں کے لیے ایک نئی راہ ہموار کی، اور ملکی پاپ میوزک میں خواتین کی نمائندگی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
