دنیا بھر میں جب فلمی صنعت یہ سوچنے میں مصروف ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کو فلم سازی میں کب اور کیسے استعمال کیا جائے، ایسے میں نیٹ فلکس نے صاف طور پر اعلان کر دیا ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کے ساتھ "پورے دل سے” آگے بڑھنے والا ہے۔
کمپنی کی تازہ ترین سہ ماہی رپورٹ میں نیٹ فلکس نے کہا کہ وہ “AI کی تیزی سے ہونے والی ترقی سے بہترین فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہے۔” تاہم کمپنی کے سی ای او ٹیڈ سیرانڈوس کے مطابق، نیٹ فلکس کا مقصد انسانوں کی جگہ AI کو لانا نہیں بلکہ تخلیقی لوگوں کے لیے اس ٹیکنالوجی کو ایک مددگار آلے کے طور پر استعمال کرنا ہے۔
ٹیڈ سیرانڈوس نے کہا، “ایک عظیم فنکار ہی کچھ عظیم تخلیق کر سکتا ہے۔ AI صرف بہتر اوزار فراہم کر سکتا ہے جو کہانی سنانے کے تجربے کو نکھاریں، مگر یہ کسی عام شخص کو خودبخود فنکار نہیں بنا دیتا۔”
نیٹ فلکس نے حال ہی میں اپنے ارجنٹائن کے شو “The Eternaut” میں پہلی بار جنریٹیو AI کا استعمال کیا، جہاں ایک عمارت کے گرنے کا منظر اسی ٹیکنالوجی سے تخلیق کیا گیا۔ اسی طرح فلم “Happy Gilmore 2” میں کرداروں کو جوان دکھانے کے لیے AI کا سہارا لیا گیا، جبکہ “Billionaires’ Bunker” کی ٹیم نے ملبوسات اور سیٹ ڈیزائن کی منصوبہ بندی کے دوران AI کو بطور پری پروڈکشن ٹول استعمال کیا۔
ٹیڈ سیرانڈوس کے مطابق، نیٹ فلکس کسی فیشن یا نئی لہر کے پیچھے نہیں بھاگ رہا بلکہ کہانی سنانے کے عمل کو زیادہ موثر اور جدید بنانے کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمیں یقین ہے کہ AI ہماری اور ہمارے تخلیقی ساتھیوں کی کہانیاں بہتر، تیز اور نئے انداز میں سنانے میں مدد کرے گا۔”
دوسری جانب، ہالی وُڈ میں AI کا استعمال اب بھی ایک متنازعہ موضوع ہے۔ کئی فنکاروں اور تخلیق کاروں کو خدشہ ہے کہ ان کے کام کو بغیر اجازت ٹریننگ ڈیٹا کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جو ان کی نوکریوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
یہ بحث اُس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب OpenAI نے Sora 2 نامی نیا ویڈیو اور آڈیو ماڈل پیش کیا، جس میں ایسے حفاظتی اقدامات شامل نہیں تھے جو اداکاروں یا مشہور شخصیات کی نقل بنانے سے روکیں۔ معروف اداکار برائن کرسٹن سمیت SAG-AFTRA یونین نے OpenAI سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جو اداکاروں کو ڈیپ فیک خطرات سے محفوظ رکھیں۔
سرمایہ کاروں کے سوال پر ٹیڈ سیرانڈوس نے کہا کہ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی مواد تخلیق کرنے والوں پر اثر ڈال سکتی ہے، مگر وہ فلم یا ٹی وی انڈسٹری کے مستقبل کے بارے میں فکر مند نہیں۔ ان کے مطابق، “ہمیں اس بات کا خوف نہیں کہ AI تخلیقیت کی جگہ لے لے گا۔”
نیٹ فلکس نے اس سہ ماہی میں 17 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا، جس کے مطابق آمدنی 11.5 ارب ڈالر تک جا پہنچی، تاہم یہ کمپنی کی پیش گوئی سے کچھ کم رہی۔
یوں نیٹ فلکس ایک بار پھر ٹیکنالوجی کے میدان میں قیادت کا عزم ظاہر کر رہا ہے — جب کہ باقی فلمی دنیا ابھی یہ طے کرنے میں مصروف ہے کہ مصنوعی ذہانت کہانی سنانے کی دنیا کے لیے رحمت ہے یا خطرہ۔
