کاٹھمنڈو: نیپال بدھ کو مزید انتشار کا شکار ہوگیا جب ملک گیر انسدادِ بدعنوانی مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 30 تک جا پہنچی، جس کے بعد فوج نے سلامتی کی باگ ڈور سنبھال لی۔ صورتحال اس قدر سنگین ہوگئی کہ سرکاری عمارتوں میں آگ لگ گئی اور سیاسی ڈھانچہ تقریباً منہدم ہو گیا۔
یہ احتجاج، جس کی قیادت بڑی حد تک نوجوان نسل کر رہی ہے، پیر کو اس وقت شروع ہوا جب بدعنوانی، اقرباپروری اور سوشل میڈیا پر پابندیوں کے خلاف عوامی غصہ سڑکوں پر نکل آیا۔ حالات اس وقت بگڑ گئے جب سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی، جس کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے اور پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور سنگھ دربار انتظامی کمپلیکس بھی لپیٹ میں آگئے۔ تری بھون انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔
منگل کی رات تک شعلوں نے اسکولوں، میڈیا ہاؤسز اور حتیٰ کہ وزارتِ صحت و آبادی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس میں قومی ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر بھی شامل تھا۔ پولیس اسٹیشنوں پر قبضہ کر لیا گیا، سیاسی رہنماؤں کے گھروں پر حملے ہوئے اور جیلوں سے اجتماعی فرار کی اطلاعات آئیں، جن میں سے کئی قیدی اب بھی مفرور ہیں۔ اسپتال شدید زخمی مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں جبکہ متعدد افراد لاپتہ ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نیپالی حکام پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کا احترام کریں اور مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔ انہوں نے کہا: "احتجاج پُرامن رہنے چاہئیں تاکہ جان و مال کا تحفظ ہو۔”
کشیدہ صورتحال کے باعث فوج نے نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کر دیں، ناکے قائم کیے اور لوٹی گئی اسلحہ برآمد کرنے کی کارروائی شروع کر دی۔ نوجوان گروہ بھی میدان میں آگئے ہیں، جنہوں نے نہ صرف چرایا گیا اسلحہ واپس کیا بلکہ فرار شدہ قیدیوں کو پکڑنے میں بھی مدد فراہم کی۔ تری بھون ایئرپورٹ دوبارہ کھول دیا گیا ہے اور بعض پولیس اسٹیشن بھی جزوی طور پر بحال ہو چکے ہیں۔
ملک کو تباہی سے نکالنے کے لیے عبوری حکومت کے قیام، پارلیمنٹ کی تحلیل اور غیرقانونی اثاثوں کی تحقیقات جیسے اقدامات پر غور جاری ہے۔ دارالحکومت میں نوجوان رضاکار ملبہ صاف کرتے دکھائی دیے، جو اس بحران میں بیک وقت تباہی اور قوم کی مزاحمت کی علامت ہیں۔
