امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو جدید ہتھیاروں کی نئی کھیپ دینے کا اعلان کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے 50 دن کے اندر جنگ بندی پر اتفاق نہ کیا تو روسی تیل خریدنے والے ممالک کو سخت معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وائٹ ہاؤس میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ بار بار امن کی بات کرتے ہیں لیکن حملے جاری رکھتے ہیں۔
"ہم جدید ترین ہتھیار تیار کر رہے ہیں، جو نیٹو کو فراہم کیے جائیں گے۔ کچھ ممالک اپنے پیٹریاٹ سسٹمز یوکرین کو دے رہے ہیں، جن کی جگہ ہم نئے فراہم کریں گے،” ٹرمپ نے کہا۔ پیٹریاٹ میزائل سسٹمز یوکرین کے شہروں کو روسی حملوں سے بچانے میں اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ دیگر ممالک کی جانب سے آرڈر کیے گئے 17 تک پیٹریاٹ بیٹریز یوکرین کو دی جا سکتی ہیں، اور یہ عمل آنے والے دنوں میں شروع ہو جائے گا۔ اس ہتھیاری امداد کی قیمت نیٹو اتحادی ادا کریں گے۔
اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے روسی اشیاء پر 100 فیصد ٹیرف لگانے اور ان ممالک پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا جو روسی تیل خریدتے رہیں گے، جیسے چین اور بھارت۔
ایک امریکی اہلکار کے مطابق، 50 دن کی مہلت مذاکرات کے لیے دی گئی ہے، لیکن اگر امن معاہدہ نہ ہوا تو سخت اقتصادی اقدامات کیے جائیں گے۔
روس کی مالی منڈیوں میں ابتدائی مندی دیکھی گئی، لیکن جلد ہی بہتری آ گئی کیونکہ ماہرین کا کہنا تھا کہ مہلت سے روسی قیادت کو سوچنے کا موقع مل سکتا ہے۔
یوکرین میں، صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ٹرمپ کے ایلچی کیتھ کیلوگ سے ملاقات کی، جس میں یوکرین کی فضائی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے اور یورپی شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ اسلحہ سازی پر بات ہوئی۔ ملاقات کے فوراً بعد کیف میں فضائی حملے کا الرٹ جاری کیا گیا۔
اسی روز زیلنسکی نے وزیراعظم ڈینس شمیہال کو ہٹانے اور ان کی نائب یولیا سویریڈینکو کو نیا وزیر اعظم نامزد کرنے کا اعلان کیا۔ یولیا ایک ماہر اقتصادیات ہیں اور انہوں نے امریکہ کے ساتھ معدنیات کے معاہدے پر بات چیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی تعیناتی کی منظوری پارلیمان سے لی جائے گی۔
روس اب تک یوکرین کے تقریباً پانچویں حصے پر قابض ہے اور مشرقی علاقوں میں پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ جنگ کے خاتمے کی کوئی فوری امید نظر نہیں آ رہی۔
