اسلام آباد کی مقامی عدالت میں ٹک ٹاک اسٹار ثنا یوسف کے قتل کیس میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دو اہم استغاثہ کے گواہوں کے بیانات قلم بند کر لیے گئے۔ یہ پیش رفت اس ہائی پروفائل مقدمے کے مستقبل پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔
اضافی سیشن جج محمد افضل مجوکہ کی عدالت میں ڈاکٹر ہرپال کمار اور ڈاکٹر آمنہ نے بیان ریکارڈ کروایا۔ دونوں گواہان نے کیس کے فرانزک شواہد اور پوسٹ مارٹم سے متعلق تفصیلات پیش کیں۔
عدالتی کارروائی کے دوران پراسیکیوٹر راجہ نوید حسین نے مؤقف اختیار کیا کہ دفاعی وکیل مقدمے کو غیر ضروری طور پر طول دے رہے ہیں، لہٰذا عدالت کو ہدایت جاری کرنی چاہیے کہ جرح جلد مکمل کی جائے۔ عدالت نے استغاثہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے دفاع کو حکم دیا کہ 18 اکتوبر تک جرح مکمل کی جائے۔
یہ قدم عدالت کی اس سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ مقدمے کو مزید تاخیر کے بغیر آگے بڑھانا چاہتی ہے۔
کیس کی تفصیلات
17 سالہ ثنا یوسف، جو سوشل میڈیا پر ایک مقبول ٹک ٹاک انفلوئنسر تھیں، کو 2 جون 2025 کو اسلام آباد کے علاقے جی-13/1 میں ان کے گھر کے اندر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔
پولیس نے ایک ہفتے کی تحقیقات کے بعد 22 سالہ عمر حیات کو فیصل آباد سے گرفتار کیا۔ ملزم پر الزام ہے کہ اس نے ذاتی جھگڑے کے بعد ثنا کو قتل کیا۔ بعدازاں عدالت میں قتل کا چالان جمع کرایا گیا جس میں بتایا گیا کہ فرانزک رپورٹ کے مطابق ملزم کے قبضے سے برآمد ہونے والا اسلحہ جائے وقوعہ پر استعمال ہونے والے ہتھیار سے مطابقت رکھتا ہے۔
ستمبر میں عدالت نے ملزم پر باقاعدہ قتل کا الزام عائد کیا جس پر اس نے قصور سے انکار کیا۔
ثنا یوسف کے قتل نے پورے ملک میں شدید عوامی ردِعمل پیدا کیا تھا۔ سوشل میڈیا صارفین اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں خواتین اور نوجوان کانٹینٹ کریئیٹرز کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔
پیش رفت کی اہمیت
عدالت میں فرانزک ماہرین کے بیانات ریکارڈ ہونا قتل کے مقدمات میں ایک اہم مرحلہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ان کے ذریعے موت کی نوعیت، وقت اور طریقہ واضح ہوتا ہے۔
عدالت کی جانب سے دفاع کو مقررہ تاریخ تک جرح مکمل کرنے کی ہدایت اس بات کا اشارہ ہے کہ اب یہ مقدمہ تیزی سے اپنے اگلے مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
پراسیکیوٹر راجہ نوید حسین نے سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ "آج کے بیانات نے ہمیں انصاف کے ایک قدم قریب کر دیا ہے۔”
عوامی ردِعمل
خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز #JusticeForSanaYousaf اور #EndViolenceAgainstWomen ٹرینڈ کرنے لگے۔ ہزاروں صارفین نے امید ظاہر کی کہ شاید اب یہ کیس اپنے منطقی انجام تک پہنچ سکے۔
خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خواتین انفلوئنسرز اور آن لائن تخلیق کاروں کے تحفظ کے لیے مضبوط قوانین نافذ کرے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔
آئندہ سماعت
عدالت نے مقدمے کی اگلی سماعت 18 اکتوبر مقرر کی ہے جس میں دفاعی ٹیم گواہوں پر جرح کرے گی۔ اس کے بعد توقع ہے کہ فرانزک ماہرین اور تفتیشی افسران کے مزید بیانات قلم بند کیے جائیں گے۔
یہ پیش رفت اس بات کی امید دلاتی ہے کہ شاید آخرکار ثنا یوسف کے لیے انصاف کی راہ ہموار ہونے جا رہی ہے — ایک نوجوان لڑکی جس کا خواب، اس کی زندگی کی طرح، بہت جلد ختم کر دیا گیا۔
