پاکستان اور بنگلہ دیش نے تجارتی و سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئے اقدامات اٹھائے ہیں، دونوں ممالک نے سرمایہ کاری اور تعاون کے نئے مواقع کو اجاگر کیا۔
ڈھاکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (DCCI) اور راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (RCCI) کے مشترکہ نیٹ ورکنگ ایونٹ میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت احسان افضل خان نے دو طرفہ تجارتی سرگرمیوں میں اضافے پر زور دیا۔ انہوں نے فارماسیوٹیکل، آٹوموبائل اور معدنیات جیسے شعبوں میں بڑھتی دلچسپی کو مستقبل کی اقتصادی ترقی کے اہم ذرائع قرار دیا۔
خان نے شرکاء کو یقین دلایا کہ پاکستان سرحد پار کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور زور دیا کہ نجی شعبے کے باہمی تعاون سے نئی تجارتی راہیں اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ کاروباری رہنماؤں نے اس ملاقات کو عوامی سطح پر تجارتی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے سنگ میل قرار دیا۔
دریں اثنا، وزیراعظم شہباز شریف نے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ بنگلہ دیش کے مشیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر اے ایف ایم خالد حسین سے ملاقات میں وزیراعظم نے اعلیٰ سطحی دوروں اور تبادلوں کے تسلسل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافتی رشتوں اور خاندانی روابط پر مبنی ہیں۔
وزیراعظم نے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کی قیادت کو بھی سراہا اور غربت کے خاتمے میں ان کی خدمات اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کے وژن کی تعریف کی۔
ڈاکٹر حسین، بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر برائے پاکستان محمد اقبال حسین خان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے پروفیسر یونس کا تعزیتی خط پیش کیا جس میں حالیہ سیلابی نقصانات پر افسوس کا اظہار اور امدادی تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ ڈاکٹر حسین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دونوں برادر ممالک کے تعلقات تاریخی رشتوں اور مشترکہ عقیدے پر استوار ہیں۔
