اسلام آباد: پاکستان میں پٹرول کی قیمت 16 ستمبر سے فی لٹر 1.54 روپے بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 4.79 روپے فی لٹر کے اضافے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ یہ معلومات انڈسٹری ذرائع نے فراہم کی ہیں۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) 15 ستمبر کو اپنے حسابات کو حتمی شکل دے گی اور سمری وزارتِ پیٹرولیم کو بھجوائے گی۔ بعد ازاں لیوی اور ٹیکس شامل کرنے کے بعد یہ سفارشات وزیرِاعظم کو ارسال کی جائیں گی، جن کی منظوری کے بعد نئی قیمتوں کا اطلاق ہوگا۔
ابتدائی تخمینوں کے مطابق مٹی کے تیل میں 3.06 روپے اور لائٹ ڈیزل آئل (LDO) میں 3.68 روپے فی لٹر اضافہ متوقع ہے۔
اس سے قبل، یکم ستمبر کو حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے فی لٹر کمی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد HSD کی قیمت 272.99 روپے سے کم ہو کر 269.99 روپے فی لٹر ہوگئی تھی، جبکہ پٹرول 264.61 روپے فی لٹر پر برقرار رہا۔ اسی طرح مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 1.46 روپے اور 2.40 روپے کمی کی گئی تھی۔ یہ فیصلے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور روپے کی قدر کے مقابلے کو مدنظر رکھتے ہوئے معمول کے پندرہ روزہ جائزے کا حصہ تھے۔
جائزے میں بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں، ایکسچینج ریٹ اور ملکی لاگت کے عوامل کو شامل کیا گیا، جن میں ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن (پٹرول پر 8.05 روپے اور ڈیزل پر 6.20 روپے) کے ساتھ پیٹرولیم لیوی (PL) اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی (CSL) جیسی اضافی رقوم بھی شامل ہیں، جو ریٹیل قیمتوں پر نمایاں اثر ڈالتی ہیں۔
یہ مسلسل دوسرا پندرہ روزہ موقع تھا جب پٹرول کی قیمتیں برقرار رہیں جبکہ دیگر ایندھن کی قیمتوں میں کمی کی گئی۔ اس سے قبل 15 اگست کو ڈیزل میں 12.84 روپے، مٹی کے تیل میں 7.19 روپے اور لائٹ ڈیزل میں 8.20 روپے فی لٹر کی نمایاں کمی کی گئی تھی۔
اگر یہ نیا اضافہ منظور ہوگیا تو یہ کمی کے سلسلے کو الٹ دے گا اور مہنگائی سے دوچار صارفین پر مزید بوجھ ڈالے گا۔
