لاہور – مشہور پاکستانی یوٹیوبر سعد الرحمٰن، جو ڈکی بھائی کے نام سے جانے جاتے ہیں، کے خلاف لاہور میں قماربازی کے فروغ اور دھوکہ دہی کے الزامات پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ سائبر کرائم اور تعزیری قوانین کی متعدد دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
مقدمہ نمبر 196/2025 میں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (PECA) کی دفعات 13، 14، 25 اور 26 شامل کی گئی ہیں، جب کہ پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعات 420 (فراڈ) اور 294-بی (فحش حرکات اور گانے) بھی لگائی گئی ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ڈکی بھائی آن لائن جوا کھیلنے والی اور کیسینو طرز کی ایپس کو فروغ دیتے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اشتہارات اور پروموشنز سے نوجوانوں میں قماربازی کے رجحان میں اضافہ ہوا۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے مطابق یوٹیوبر کے موبائل فون سے اہم ڈیجیٹل ثبوت بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔ ادارے کے ترجمان نے تصدیق کی کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید انکشافات متوقع ہیں۔
ڈکی بھائی، جو یوٹیوب پر لاکھوں سبسکرائبرز کے مالک اور پاکستان کے بااثر ڈیجیٹل کری ایٹرز میں شمار ہوتے ہیں، نے تاحال اس حوالے سے کوئی مؤقف نہیں دیا۔ سوشل میڈیا پر اس مقدمے کے بعد مداحوں میں تقسیم دیکھنے کو مل رہی ہے، کچھ لوگ ان الزامات کو درست قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ اسے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش سمجھتے ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہوگئے تو ڈکی بھائی کو بھاری جرمانوں، آن لائن پلیٹ فارمز پر ممکنہ پابندی اور قید جیسی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
