کلاؤڈ فلیئر کی سروسز میں اچانک آنے والی تکنیکی خرابی نے جمعے کے روز دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا۔ کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ اس کی عالمی سطح کی خدمات متاثر ہوئی ہیں اور انہیں بحال کرنے کا کام جاری ہے۔
کلاؤڈ فلیئر، جو ڈی این ایس اور کونٹینٹ ڈیلیوری نیٹ ورک کی خدمات فراہم کرتا ہے، نے بتایا کہ صارفین کی جانب سے بڑے پیمانے پر شکایات کے بعد معلوم ہوا کہ اس کے عالمی نیٹ ورک میں بیک وقت متعدد مسائل پیدا ہوئے، جس کے نتیجے میں صارفین کو 500 ایررز کا سامنا رہا اور کمپنی کا ڈیش بورڈ اور اے پی آئی بھی متاثر ہوئے۔
شام 6 بج کر 09 منٹ پر جاری تازہ ترین بیان میں کمپنی نے کہا کہ ضروری تبدیلیاں کرنے کے بعد کلاؤڈ فلیئر ایکسیس اور وارپ سروسز بحالی کی جانب بڑھ رہی ہیں، اور ایررز کی شرح واقعے سے پہلے والی سطح پر واپس آ گئی ہے۔ لندن میں وارپ کی رسائی بھی مکمل طور پر فعال کر دی گئی ہے۔ مزید کہا گیا کہ دیگر خدمات کی بحالی پر مسلسل کام ہو رہا ہے۔
عالمی انٹرنیٹ نگرانی کے ادارے نیٹ بلاکس نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ کلاؤڈ فلیئر کے عالمی ڈھانچے میں آنے والی خرابی کے باعث دنیا بھر میں متعدد آن لائن سروسز متاثر ہوئی ہیں۔ ادارے نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ کسی ملک میں انٹرنیٹ بندش یا فلٹرنگ سے متعلق نہیں ہے۔
آؤٹیج ٹریکنگ ویب سائٹ ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق پاکستان سے بھی صارفین نے شام 4 بج کر 10 منٹ کے قریب کلاؤڈ فلیئر سے متعلق بڑی تعداد میں شکایات رپورٹ کیں۔ اوپن اے آئی، ایمیزون ویب سروسز اور فیس بک کے حوالے سے بھی اسی نوعیت کی شکایات سامنے آئیں۔
ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) بھی امریکا سمیت کئی ممالک میں متاثر ہوا، جہاں صبح 6 بج کر 41 منٹ تک 11 ہزار سے زائد شکایات درج ہوئیں۔ یہ بات تاحال واضح نہیں ہو سکی کہ کیا یہ تمام آؤٹیجز آپس میں منسلک تھے۔ کلاؤڈ فلیئر اور ایکس کی جانب سے رائٹرز کے سوالات کا فوری جواب نہیں دیا گیا۔
کلاؤڈ فلیئر اس سے قبل جون 2022 میں بھی بڑے پیمانے پر آؤٹیج کا شکار ہو چکا ہے، جس سے بے شمار مشہور ویب سائٹس متاثر ہوئی تھیں۔
ڈی این ایس سرور انٹرنیٹ کی ’ایڈریس بک‘ کا کردار ادا کرتا ہے، جو ویب سائٹ کے نام کو اس کے اصل آئی پی ایڈریس سے ملاتا ہے۔ بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ صارفین کو سہولت دینے کے لیے ایسے ڈی این ایس سرور درکار ہوتے ہیں جو زیادہ ٹریفک سنبھال سکیں اور فوری جواب دے سکیں۔
ادھر پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایکس اور کلاؤڈ فلیئر کی سروسز عالمی سطح پر متاثر ہو رہی ہیں، اور پی ٹی اے اس صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق پی ٹی اے عالمی پلیٹ فارمز اور مقامی آپریٹرز سے رابطے میں ہے اور خدمات کی مکمل بحالی تک صورتحال کا جائزہ لیتا رہے گا۔
