کوئٹہ — وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ کوئٹہ کے سول ہسپتال میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب گردی کے واقعے کے دوران ان کی مدد کے لیے آگے آنے والے شہری کو سول اعزاز سے نوازا جائے گا۔
سول ہسپتال کوئٹہ میں ہفتے کے روز ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں پولیس کے مطابق ہسپتال کے ہی ایک ملازم نے لیڈی ڈاکٹر ماہنور نثار پر تیزاب پھینک دیا، جس کے نتیجے میں ان کا چہرہ، سینہ، ٹانگیں اور جسم کے دیگر حصے بری طرح جھلس گئے۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تیزاب کے حملے کے بعد جب ڈاکٹر ماہنور کمرے سے چیختی ہوئی باہر بھاگیں، تو وہاں موجود ایک شخص نے فوری طور پر اپنی جیکٹ ان پر ڈال کر ان کی مدد کرنے کی کوشش کی۔
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں بتایا کہ یہ بہادر شخص عبدالرزاق تراکئی ہے، جو خود بھی سول ہسپتال کا ملازم ہے۔ انہوں نے عبدالرزاق کی جرات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نے "غیر معمولی بہادری، انسانیت اور لگن” کا مظاہرہ کیا، جس پر انہیں سول ایوارڈ دیا جائے گا۔ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ایسے بہادر لوگ معاشرے کا اثاثہ ہیں جو مشکل ترین حالات میں بھی انسانیت کی خدمت کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہیں۔
دوسری جانب، رکنِ قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے بھی اس وحشیانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ صدرِ مملکت کے سیکریٹریٹ سے جاری کردہ بیان کے مطابق، آصفہ بھٹو زرداری نے صدر آصف علی زرداری سے عبدالرزاق تراکئی کو ان کی "بے لوث بہادری” پر ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نوازنے کی سفارش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عبدالرزاق کے بروقت اور جرات مندانہ اقدام نے نہ صرف ایک قیمتی جان بچائی بلکہ وہ پوری قوم کے لیے انسانیت کی ایک روشن مثال بن کر ابھرے ہیں۔
آصفہ بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ معاشرے میں خواتین پر تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اس واقعے کے ذمہ داروں سے قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
