نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم مسلم ممالک کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے کردار ادا کریں۔ ٹرمپ نے ایک امن منصوبہ پیش کیا ہے جس میں قیدیوں کے تبادلے کے بدلے جنگ بندی، اسرائیلی انخلا اور خطے کی قیادت میں تعمیر نو کا عمل شامل ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت پر مبنی سخت خطاب کے بعد ٹرمپ نے پاکستان، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے رہنماؤں سے کہا:
یہی وہ گروپ ہے جو یہ کام کرسکتا ہے… ہمیں فوراً جنگ کو ختم کرنا ہوگا۔
یہ کثیرالجہتی اجلاس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں سیشن کے موقع پر منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم آفس کی جاری کردہ تصاویر میں شہباز شریف کو اردن کے شاہ عبداللہ دوم، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور انڈونیشیا کے صدر پروبوو سبینتو سے ملاقات کرتے دکھایا گیا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ کے منصوبے میں مرحلہ وار اسرائیلی انخلا، مسلم اور عرب امن فوج کی تعیناتی اور غزہ کی بحالی کے لیے عالمی مالی معاونت شامل ہے۔ تاہم اس عمل میں حماس کو شامل نہیں کیا گیا، اور واشنگٹن کا اصرار ہے کہ صرف فلسطینی اتھارٹی کو کردار دیا جائے۔
قطر کے امیر نے اجلاس بلانے پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مسلم ممالک کی اولین ترجیح جنگ کا خاتمہ اور یرغمالیوں کی رہائی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ٹرمپ کے “عالمی امن کے عزم” کو سراہا اور بھارت و پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں ان کے کردار کو یاد کیا۔
اگرچہ فوری طور پر کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا، لیکن امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو اس منصوبے سے آگاہ کردیا گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس کوشش کو “آخری موقع” قرار دیا جس کا مقصد جنگ ختم کرنا، قیدیوں کی رہائی اور انسانی امداد پہنچانا ہے
