لاہور – پنجاب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے صوبے بھر کے اسکولوں میں اسموگ کی شدت کے باعث تمام آؤٹ ڈور سرگرمیاں، بشمول کھیل اور صبح کی اسمبلیاں، معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ہدایات ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے جمعہ کو جاری کی گئیں۔
محکمے نے ہدایت دی ہے کہ اس پابندی کا اطلاق اُن دنوں میں ہوگا جب اسموگ کی شدت زیادہ ہو، تاکہ طلبہ کی صحت کو محفوظ رکھا جا سکے۔ ضلعی تعلیمی حکام (DEAs) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ طلبہ، والدین اور اساتذہ کے لیے آگاہی مہم چلائیں، جس میں اسموگ کے نقصانات اور حفاظتی تدابیر جیسے ماسک پہننا، زیادہ پانی پینا اور باہر کی سرگرمیوں کو کم کرنا شامل ہوں۔
خاص طور پر دمہ اور دیگر سانس کی بیماریوں میں مبتلا بچوں کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے۔ اساتذہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے طلبہ کے ایمرجنسی ہیلتھ ریکارڈز محفوظ رکھیں اور ان کی صحت کی علامات پر گہری نظر رکھیں۔ اسکولوں کو لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ مقامی محکمہ صحت کے ساتھ رابطے کے لیے فوکل پرسن تعینات کریں تاکہ ہنگامی طبی امداد فوری فراہم ہو سکے۔
مزید ہدایات میں اسکولوں کو کہا گیا ہے کہ وہ کلاس رومز کو صاف اور ہوادار رکھیں، تاہم اسموگ کے شدید اوقات میں دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں۔ اسکول کے احاطے میں کچرا جلانے پر مکمل پابندی لگادی گئی ہے اور مناسب ویسٹ مینجمنٹ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ضلعی حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کی نگرانی کریں اور بروقت اسکولوں کو ہدایات جاری کریں۔ اداروں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنی آگاہی سرگرمیوں کو سرکاری سوشل میڈیا صفحات پر شیئر کریں اور 5 اکتوبر 2025 سے ہفتہ وار رپورٹس جمع کروائیں، جن میں فوکل پرسن کی تفصیلات اور آگاہی مہم کے لنکس شامل ہوں۔
واضح رہے کہ اسموگ پنجاب میں ہر سال سردیوں کے دوران ایک بڑا صحت عامہ کا مسئلہ بن جاتا ہے، جس کی وجہ سے حکومت کو طلبہ کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں۔
