اسلام آباد / کابل:
پاکستان اور افغانستان نے 48 گھنٹے کی جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کر لیا ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے وفود دوحہ میں اہم مذاکرات کے لیے پہنچ چکے ہیں۔ یہ اقدام سرحدی کشیدگی میں کمی اور امن کے امکانات کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، پاکستان کا وفد پہلے ہی دوحہ پہنچ چکا ہے، جبکہ افغان وفد ہفتے کے روز پہنچنے والا ہے۔ جنگ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ مذاکرات مکمل نہیں ہو جاتے۔
افغان درخواست پر ہونے والی ابتدائی جنگ بندی نے شدید لڑائی کو وقتی طور پر روک دیا تھا جس میں درجنوں افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔
ترجمان دفترِ خارجہ شفقت علی خان نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک “تعمیری مذاکرات” کے ذریعے تنازع کے پرامن حل کے لیے کوشاں ہیں۔
پاکستانی افواج نے 12 اکتوبر کو طالبان اور بھارت کی حمایت یافتہ تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے حملوں کے جواب میں افغان علاقوں قندھار اور کابل میں “درست اہداف” پر حملے کیے جن میں 200 سے زائد جنگجو مارے گئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان پائیدار امن کے لیے “معقول شرائط” پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق “اب گیند طالبان حکومت کے کورٹ میں ہے” اور انہیں مستقل جنگ بندی کے لیے مثبت رویہ اپنانا ہوگا۔
دوحہ میں جاری مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا جا رہا ہے۔
