اسلام آباد— وفاقی حکومت نے 2025-26 کی گندم پالیسی کی منظوری دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی تاکہ ملک بھر میں گندم کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
یہ فیصلہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، جس میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، خیبر پختونخوا کے نمائندے، آزاد جموں و کشمیر کے وزیرِ اعظم اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پنجاب حکومت نے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی ترسیل پر پابندیاں عائد کی تھیں تاکہ صوبے میں قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے، جس پر خیبر پختونخوا کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اجلاس میں کہا کہ پاکستان کی معیشت کی بنیاد زراعت پر ہے اور گندم نہ صرف عوام کی بنیادی خوراک ہے بلکہ کسانوں کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی تمام صوبوں کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے جس کا مقصد عوامی مفاد کے ساتھ ساتھ کسانوں کے لیے منافع بخش نظام کو یقینی بنانا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتیں مشترکہ طور پر 6.2 ملین ٹن گندم کے اسٹریٹجک ذخائر رکھیں گی جبکہ گندم فی من 3,500 روپے کے حساب سے خریدی جائے گی، جو بین الاقوامی مارکیٹ کے مطابق ہے۔
وزیرِ اعظم آفس کے مطابق، پالیسی پر عمل درآمد کے لیے ایک نیشنل فوڈ سیکیورٹی کوآرڈینیشن کمیٹی قائم کی جائے گی جو ہر ہفتے اجلاس کرے گی اور براہِ راست وزیرِ اعظم کو رپورٹ پیش کرے گی۔
وزیرِ اعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ پالیسی نہ صرف گندم کی قیمتوں کو مستحکم رکھے گی بلکہ کسانوں کی آمدن میں اضافے اور ملک میں غذائی تحفظ کو بھی یقینی بنائے گی۔
