بھارتی گلوکار اور نغمہ نگار لکی علی نے معروف شاعر و مکالمہ نگار جاوید اختر کے بارے میں دیے گئے اپنے سخت ریمارکس پر معافی مانگ لی ہے۔ چند روز قبل سوشل میڈیا پر لکی علی کا ایک پوسٹ وائرل ہوا تھا، جس میں انہوں نے جاوید اختر کو ’’بدصورت‘‘ اور ’’بالکل غیر تخلیقی‘‘ قرار دیا تھا۔
تنازعہ کیسے شروع ہوا
واقعہ اس وقت شروع ہوا جب جاوید اختر کی ایک پرانی ویڈیو دوبارہ سامنے آئی، جس میں وہ مبینہ طور پر یہ کہتے نظر آئے:
’’مسلمانوں جیسے مت بنو، بلکہ انہیں اپنے جیسا بناؤ۔ تم خود مسلمانوں جیسے بنتے جا رہے ہو۔‘‘
یہ جملہ سن کر لکی علی نے شدید ردعمل دیا اور ایک سخت پوسٹ میں لکھا:
’’جاوید اختر جیسے مت بنو، جو کبھی تخلیقی نہیں رہے اور بدصورت ہیں۔‘‘
یہ بیان لمحوں میں وائرل ہو گیا، اور سوشل میڈیا پر لکی علی کو تنقید اور حمایت دونوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ انہیں اپنی بات بہتر انداز میں رکھنی چاہیے تھی، جبکہ بعض نے ان کے جذبات کو درست قرار دیا۔
لکی علی کی "نیم معافی”
بعد میں لکی علی نے ایک نئی پوسٹ میں اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے معافی بھی مانگی، لیکن انداز کچھ طنزیہ سا تھا۔ انہوں نے لکھا:
’’میرا مطلب یہ تھا کہ تکبر بدصورت ہوتا ہے… یہ میری جانب سے غلط انداز میں بات پہنچی۔ عفریتوں کے بھی جذبات ہوتے ہیں، اور اگر میں نے کسی کی عفریتیت کو ٹھیس پہنچائی ہو تو معذرت چاہتا ہوں۔‘‘
یہ معافی اگرچہ نرم الفاظ میں دی گئی، لیکن اس میں چھپا طنز سب پر واضح تھا۔ بہت سے صارفین نے کہا کہ یہ ’’شاعرانہ انداز میں دی گئی آدھی معافی‘‘ لگتی ہے۔
جاوید اختر کی خاموشی
دوسری جانب جاوید اختر کی طرف سے اب تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ عام طور پر اس طرح کی آن لائن بحثوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر لوگوں کی رائے دو حصوں میں بٹ گئی۔ کچھ نے کہا کہ لکی علی کا ردعمل جاوید اختر کے متنازعہ بیان کے جواب میں فطری تھا، جبکہ کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ انہیں ذاتی حملوں کے بجائے بات کو دلیل سے رکھنا چاہیے تھا۔
پس منظر اور اہمیت
یہ تنازعہ صرف دو فنکاروں کے درمیان نہیں بلکہ ایک بڑی بحث کو جنم دے رہا ہے — کہ فنکار اپنے خیالات کے اظہار میں کہاں تک جا سکتے ہیں؟ اور کیا اظہارِ رائے کے نام پر ذاتی حملے جائز ہیں؟
جاوید اختر اور لکی علی دونوں اپنے اپنے میدان کے بڑے نام ہیں۔ اس طرح کا اختلاف نہ صرف ان کے مداحوں کو حیران کر گیا بلکہ فنکارانہ ذمہ داری اور سماجی حساسیت پر بھی کئی سوال کھڑے کر گیا ہے۔
فی الحال، لکی علی نے کہا ہے کہ وہ آئندہ اپنے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ محتاط رہیں گے — لیکن جیسا کہ وہ خود جانتے ہیں، ایک بار کہے گئے الفاظ واپس نہیں لیے جا سکتے۔
