پاکستان میں ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے ایک منفرد موقع فراہم کرتے ہوئے کیڈبری ڈیری ملک پاکستان نے اپنا پہلا "میڈ ٹو شیئر کری ایٹر کیمپ” منعقد کیا۔ یہ اقدام نہ صرف اشتہارات کے انداز میں ایک تبدیلی کی علامت ہے بلکہ اس نے برانڈ اور کری ایٹرز کے درمیان تعلق کو ایک نئی جہت دی ہے۔
یہ کیمپ اوگیلوی پاکستان کے PR & Influence Division کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس میں پاکستان کے معروف سوشل میڈیا اسٹارز، ٹک ٹاکرز اور انسٹاگرام کری ایٹرز نے شرکت کی۔ مقصد تھا "شیئرنگ” کے تصور کو جدید، تخلیقی اور انسان دوست زاویے سے پیش کرنا۔
ایک انوکھا قدم
روایتی انفلوئنسر مہمات کے برعکس، اس کری ایٹر کیمپ میں شرکاء کو صرف اشتہارات کا حصہ نہیں بلکہ تخلیقی عمل کا حقیقی ساتھی بنایا گیا۔
اس پروگرام میں 25 سے زائد مشہور شخصیات نے شرکت کی جن میں رومیسہ خان، عینا عاصف، کن ڈول، تیمور اکبر، رہام رفیق، ارزو فاطمہ اور علی عبداللہ درّانی شامل تھے۔
کیمپ کے دوران انہیں کیڈبری ڈیری ملک کی نئی مہم "میڈ ٹو شیئر” سے متعارف کرایا گیا — ایک ایسا خیال جو روزمرہ زندگی میں بانٹنے، اپنائیت اور خوشی کے لمحات کو اجاگر کرتا ہے۔
اسی موقع پر محدود ایڈیشن والی چاکلیٹ بارز بھی پیش کی گئیں، جن کے ری ڈیزائن عام زندگی کے دلچسپ لمحات سے متاثر ہیں جیسے:
"جو کھانا بنائے، جو ٹیبل لگائے، جو صرف کھائے!”
"انفلوئنسر” نہیں، "شریکِ تخلیق”
اس مہم نے پاکستان میں برانڈز اور مواد تخلیق کرنے والوں کے تعلقات کو ایک نئی شکل دی ہے۔
کیڈبری ڈیری ملک نے کری ایٹرز کو محض اشتہار کا ذریعہ نہیں بلکہ کہانی کے شریک مصنفین کے طور پر شامل کیا — تاکہ ہر پیغام حقیقی لگے، مصنوعی نہیں۔
سید گوہر حسن نقوی، ہیڈ آف مارکیٹنگ (مونڈلیز پاکستان) نے کہا:
"ہم ایسی کہانیاں سنانا چاہتے ہیں جو دل سے محسوس ہوں۔ یہ کری ایٹر کیمپ اسی جذبے کا مظہر ہے — ایک ایسا پلیٹ فارم جہاں تخلیق کار ہمارے ساتھ مل کر بانٹنے اور سخاوت کی اصل روح کو اجاگر کر رہے ہیں۔”
اس تقریب میں میٹا اور ٹک ٹاک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور پلیٹ فارمز کے رجحانات، مواد کے بہترین طریقوں اور ناظرین کے ساتھ حقیقی تعلق قائم کرنے پر گفتگو کی۔
برانڈ اور کری ایٹر کے تعلقات میں تبدیلی
ماہرین کے مطابق یہ قدم پاکستان کی مارکیٹنگ انڈسٹری میں ایک نیا موڑ ہے۔
یہ محض ایک تشہیری مہم نہیں بلکہ ایک تخلیقی تربیتی تجربہ تھا جس میں کیڈبری نے کری ایٹرز کو اپنے انداز میں کہانی سنانے کی آزادی دی — تاکہ وہ اپنے ناظرین سے براہِ راست اور قدرتی انداز میں جڑ سکیں۔
اوگیلوی پاکستان کی ٹیم کے مطابق "میڈ ٹو شیئر کری ایٹر کیمپ” کا مقصد صرف مہم کو فروغ دینا نہیں بلکہ تخلیق کاروں کو برانڈ کہانی کا حصہ بنانا تھا۔
ایک وسیع تر پیغام
کیڈبری ڈیری ملک ہمیشہ سے خود کو ایک ایسی چاکلیٹ کے طور پر پیش کرتا رہا ہے جو صرف ذائقہ نہیں بلکہ محبت، اپنائیت اور بانٹنے کی علامت ہے۔
یہ نیا کری ایٹر کیمپ اسی روایت کو ڈیجیٹل دور میں آگے بڑھانے کی کوشش ہے — جہاں آن لائن اشتراک صرف کلکس یا ویوز نہیں بلکہ حقیقی انسانی رابطے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
شرکاء کے لیے یہ کیمپ ایک اشتہاری مہم سے زیادہ ایک تجربہ تھا — جہاں ہر کہانی، ہر ہنسی، اور ہر لمحہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا کیڈبری کا پیغام:
"خوشی، جب بانٹی جائے، تو دوگنی ہو جاتی ہے۔”
