2025 کے آغا خان میوزک ایوارڈز کے نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے، جن میں دنیا بھر سے 11 ممتاز فنکاروں کو ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں نوازا گیا ہے۔
ان ایوارڈز کا مقصد اُن فنکاروں کو سراہنا ہے جو موسیقی کے ذریعے نہ صرف ثقافتی ورثے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں بلکہ اپنی آواز سے معاشرتی ہم آہنگی، برداشت اور روحانیت کا پیغام بھی پھیلا رہے ہیں۔
اس سال کے فاتحین میں پاکستان کے معروف کلاسیکی گلوکار استاد نصیرالدین سامی بھی شامل ہیں، جنہیں Patron’s Award سے نوازا گیا ہے — جو موسیقی کی دنیا کا ایک بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔
🇵🇰 استاد نصیرالدین سامی — صدیوں پرانے سر کی حفاظت کرنے والے
کراچی سے تعلق رکھنے والے استاد نصیرالدین سامی کو ان کی پوری زندگی کی خدمات کے اعتراف میں سراہا گیا ہے۔
وہ برصغیر کے قدیم خیال گائیکی کے واحد زندہ استادوں میں سے ہیں، اور ان کا فن براہِ راست حضرت امیر خسرو کی روایت سے جڑا ہوا ہے۔
استاد سامی کا فن 49 نغماتی سروں (microtones) پر مشتمل ایک نادر نظام رکھتا ہے، جسے آج دنیا بھر کے موسیقار حیرت سے دیکھتے ہیں۔
انہوں نے اپنی زندگی اس بات کے لیے وقف کر دی کہ یہ علم ان کے بعد بھی زندہ رہے — یہی وجہ ہے کہ ان کے بیٹے، سامی برادرز اینسمبل، آج اسی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا،
“موسیقی صرف دل بہلانے کا ذریعہ نہیں، یہ عبادت ہے… یہ یاد ہے، یہ وہ آواز ہے جو روح کو پاک کرتی ہے۔”
آغا خان میوزک ایوارڈ میں ان کی شمولیت پاکستان کے موسیقی ورثے کے لیے ایک اہم عالمی اعتراف ہے — ایک یاد دہانی کہ ہمارے قدیم سروں کی گونج ابھی باقی ہے۔
🌍 دیگر عالمی فاتحین
اس سال کے دیگر دس فاتحین میں شامل ہیں:
-
نصیر اور نذیر احمد خان وارثی (بھارت) — Patron’s Award کے شریک فاتحین، جو صوفیانہ قوالی کی مشہور وارثی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔
-
مریم بگا یوکو (مالی) — خواتین فنکاروں کی سرپرست اور ملی موسیقی کی استاد، جنہیں Lifetime Achievement Award سے نوازا گیا۔
-
صحبا امینکیا (ایران/امریکہ) — کمپوزر اور Flying Carpet Festival کے بانی، جو جنگ زدہ علاقوں میں بچوں کے لیے موسیقی لاتے ہیں۔
-
سینی کامارا (سینیگال) — کورا ساز بجانے والی گلوکارہ، جو ماحولیاتی اور صنفی برابری کے پیغام کو موسیقی کے ذریعے پھیلاتی ہیں۔
-
کمیلیا جبران (فلسطین/فرانس) — عود نواز اور گلوکارہ، جو روایتی عربی دھنوں کو جدید تجرباتی انداز میں پیش کرتی ہیں۔
-
فرح قدور (لبنان) — بزق ساز میں جدت پیدا کرنے والی اور پناہ گزینوں کے ساتھ ثقافتی بحالی کے منصوبوں پر کام کرنے والی فنکارہ۔
-
کیریاکوس کلایدیزدیس (یونان) — کمپوزر اور محقق، جو اسلامی اور بحیرہ روم کی موسیقی کے باہمی رشتوں کو اجاگر کرتے ہیں۔
-
حمید الکسری (مراکش) — معروف گناوہ موسیقار، جن کے روحانی کلام نے مراکش کی سرحدوں سے نکل کر دنیا بھر کو متاثر کیا۔
-
قلالی لوک بینڈ (بحرین) — بحرین کے موتی غوطہ خوروں کے قدیم گیتوں کو محفوظ رکھنے والی عوامی موسیقی کی جماعت۔
(گیارہویں فاتح کا باضابطہ اعلان آغا خان ٹرسٹ برائے ثقافت کی جانب سے جلد متوقع ہے۔)
🎵 موسیقی — ربط اور برداشت کی زبان
آغا خان ٹرسٹ کے مطابق، ان ایوارڈز کا مقصد “ایسے فنکاروں کو سراہنا ہے جو اپنی تخلیقی صلاحیت سے معاشروں میں مکالمہ، تسلسل اور ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔”
2019 میں آغاز کے بعد سے یہ پروگرام دنیا بھر کے سینکڑوں فنکاروں، محققین اور اساتذہ کو اعزاز دے چکا ہے۔
استاد نصیرالدین سامی کے لیے یہ اعزاز صرف ایک انفرادی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کے روحانی اور ثقافتی ورثے کی عالمی پہچان بھی ہے۔
یوں لگتا ہے جیسے وہ صرف گیت نہیں گاتے — وہ تاریخ کو سانس دیتے ہیں۔ ان کے ہر راگ میں صدیوں کی دعا اور خاموشی کی صدا چھپی ہوتی ہے۔
