پاک فوج نے بلوچستان کے ضلع قلات میں خفیہ اطلاع پر کی جانے والی کارروائی (IBO) کے دوران بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے چار دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ کارروائی یکم نومبر کی رات کو دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ “کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں چار بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد واصلِ جہنم ہوگئے۔”
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں سے بھاری تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، جو ماضی میں مختلف تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔
علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ دیگر ممکنہ دہشت گردوں کو بھی ختم کیا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ آپریشن عزمِ استحکام کے تحت ملک بھر میں جاری انسدادِ دہشت گردی مہم پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی تاکہ غیرملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
صدر آصف علی زرداری نے سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خاتمے کی اس جدوجہد میں اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔
یہ پیش رفت ایک دن بعد سامنے آئی جب آئی ایس پی آر نے خیبر پختونخوا کے شمالی وزیرستان اور ٹانک میں دو الگ کارروائیوں میں تین دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق کی۔
شمالی وزیرستان کے علاقے عشام میں سیکیورٹی فورسز نے ایک گروہ کو پاک افغان سرحد عبور کرتے ہوئے دیکھا، جس کے بعد فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
افغان طالبان کے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اسلام آباد نے متعدد بار کابل حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں کارروائیاں کرنے والے گروہوں کے خلاف اقدامات کرے، تاہم افغان حکومت نے زیادہ تعاون نہیں کیا۔
گزشتہ ہفتے استنبول میں 25 سے 30 اکتوبر تک ہونے والے مذاکرات کے بعد پاکستان اور افغانستان نے فائربندی میں توسیع کا اعلان کیا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سرحدی امن کے لیے مشترکہ مانیٹرنگ اور ویریفکیشن میکنزم قائم کیا جائے گا۔
اگلا دورِ مذاکرات 6 نومبر کو استنبول میں متوقع ہے، جہاں اس فریم ورک کی عملی تفصیلات طے کی جائیں گی۔
