ریاض: قازقستان کی ٹینس اسٹار ایلینا رائباکینا نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے جیسیکا پیگولا کو سخت مقابلے کے بعد 4-6، 6-4، 6-3 سے شکست دے کر پہلی مرتبہ ڈبلیو ٹی اے فائنلز کے فائنل میں جگہ حاصل کر لی۔
26 سالہ رائباکینا نے میچ کے دوران 15 ایس لگائے اور اپنی پہلی سروس پر 73 فیصد پوائنٹس جیتے، جس سے انہوں نے اپنی جیت کا راستہ ہموار کیا۔
اب وہ فائنل میں عالمی نمبر ایک آرینا سبالینکا یا امانڈا انیسیمووا کے خلاف میدان میں اتریں گی۔ اگر وہ یہ ٹائٹل جیتتی ہیں تو یہ ان کے کیریئر کا سب سے بڑا اعزاز 2022 ومبلڈن کے بعد ہوگا، ساتھ ہی 5.23 ملین ڈالر کی ریکارڈ انعامی رقم بھی ان کے نام ہوگی۔
رائباکینا نے میچ کے بعد کہا:
"یہ ایک بہت مشکل مقابلہ تھا، جیسیکا ہمیشہ سخت حریف ثابت ہوتی ہے۔ وہ ابتدا میں بہت مضبوط تھی، لیکن میں نے خود کو پرسکون رکھا، اپنی حکمتِ عملی بدلی اور واپسی کی۔ میری سروس نے مشکل وقت میں میری بہت مدد کی۔”
دبئی میں مقیم رائباکینا ایشیا کی نمائندگی کرنے والی تیسری کھلاڑی بن گئی ہیں جو اس ایونٹ کے فائنل میں پہنچی ہیں — ان سے پہلے ژینگ چن وین اور لی نا یہ اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔
پچھلی دو بار وہ گروپ مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکی تھیں، لیکن اس سال ریاض میں وہ ناقابلِ شکست رہیں۔
دوسری جانب، امریکی کھلاڑی پیگولا کے لیے یہ سیزن کا 31واں تین سیٹوں پر مشتمل میچ تھا — جو 2025 میں کسی ویمنز کھلاڑی کے لیے ایک نیا ریکارڈ ہے۔ وہ 2017 کے بعد سب سے عمر رسیدہ سیمی فائنلسٹ بنیں، اور پچھلے سال وہ اس ایونٹ کی رنر اپ بھی رہ چکی ہیں۔
پہلا سیٹ پیگولا نے بہترین کھیل کے ساتھ 41 منٹ میں جیتا، لیکن رائباکینا نے دوسرے سیٹ میں شاندار واپسی کی۔ اگرچہ پیگولا نے ایک موقع پر بریک واپس حاصل کیا، لیکن رائباکینا نے ایک دس منٹ طویل گیم میں سخت محنت کے بعد سیٹ اپنے نام کر لیا۔
آخری سیٹ میں رائباکینا کا اعتماد اور رفتار برقرار رہی، اور انہوں نے آخرکار میچ جیت کر اپنے کیریئر کے سب سے بڑے فائنل تک رسائی حاصل کر لی۔
