بیجنگ: چین نے اپنا تیسرا اور جدید ترین ایئرکرافٹ کیریئر "فوجیان” باضابطہ طور پر بحری بیڑے میں شامل کر لیا ہے، جو صدر شی جن پنگ کی فوجی قوت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی مہم میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
فوجیان، جس کا نام تائیوان کے سامنے واقع ایک چینی صوبے سے لیا گیا ہے، چین کا پہلا ایسا طیارہ بردار جہاز ہے جو الیکٹرو میگنیٹک ایئرکرافٹ لانچ سسٹم (EMALS) سے لیس ہے۔ یہ جدید نظام لڑاکا طیاروں کو زیادہ وزن اور ایندھن کے ساتھ روانہ کرنے کی صلاحیت دیتا ہے، جس سے فضائی طاقت اور آپریشنل رینج میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی شین ہوا کے مطابق، صدر شی جن پنگ نے خود اس سسٹم کے انتخاب کا فیصلہ کیا۔ باضابطہ افتتاحی تقریب بدھ کے روز جنوبی صوبے ہائنان کے ایک بحری اڈے پر منعقد ہوئی، جہاں شی جن پنگ نے جہاز پر سوار ہو کر اس کے لڑاکا نظام، الیکٹرو میگنیٹک کیٹاپلٹ سسٹم اور آپریشنل صلاحیتوں کا جائزہ لیا، اور بعد ازاں جہاز کی یادداشت کتاب (Ship Logbook) پر دستخط بھی کیے۔
کئی ماہ کی کامیاب سمندری آزمائشوں (Sea Trials) کے بعد، فوجیان اب چین کے دیگر دو کیریئرز لیاؤننگ (2012 میں شامل) اور شینڈونگ (2019 میں شامل) کے ساتھ فعال سروس میں شامل ہو گیا ہے۔
سنگاپور کی نانیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے ماہرِ بحری اُمور کولن کوہ نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ “فوجیان اپنے سابقہ جہازوں کے مقابلے میں کئی حوالوں سے زیادہ طاقتور ہے، خاص طور پر اس کی ڈیک ڈیزائن اور لانچ سسٹم اسے زیادہ دیر تک لڑاکا کارروائیاں جاری رکھنے کے قابل بناتا ہے۔”
ستمبر میں فوجیان نے تائیوان آبنائے سے گزرتے ہوئے "سائنسی تحقیق اور تربیتی مشقوں” میں حصہ لیا، جسے ماہرین نے ممکنہ حریفوں کے لیے ایک واضح پیغام قرار دیا۔ اسی دوران چین نے جے-35 اسٹیلتھ فائٹر طیاروں کی پروازوں کی ویڈیوز بھی جاری کیں، جو فوجیان کے ڈیک پر اترتے اور اُڑان بھرتے دکھائے گئے۔
چینی ریاستی میڈیا نے فوجیان کے کمیشن ہونے کو بحری دفاع میں ایک "نئی پیش رفت” اور فوج کی جدید کاری کی راہ میں ایک "اہم سنگِ میل” قرار دیا۔
