اس سال سورج جنوبی قطب کے افق کے پیچھے غروب ہو چکا ہے اور اگلی بار 22 جنوری 2026 کو طلوع ہوگا
الاسکا کے شمالی علاقوں میں دنیا کی سب سے طویل قطبی رات 22 جنوری 2026 سے شروع ہونے والی ہے، جس کے دوران سورج مکمل طور پر غروب رہے گا اور چند مہینوں تک روشنی کا وجود نہیں ہوگا۔ یہ phenomenon زمین کے محور کے جھکاؤ اور شمالی قطب کے قریب سورج کی حرکت کی وجہ سے ہر سال وقوع پزیر ہوتا ہے۔
مقامی رہائشی اور سائنسدان اس اندھیرے کے دوران اپنی روزمرہ زندگی میں نمایاں تبدیلیاں لاتے ہیں۔ اسکول، کام اور تفریح کے اوقات روشنی کی کمی کے مطابق ایڈجسٹ کیے جاتے ہیں، اور مقامی لوگ جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے خاص احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق، قطبی رات حیاتیات اور ماحولیات پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ جانور، پرندے اور مقامی جنگلاتی حیات اپنی سرگرمیاں روشنی کے فقدان کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ اس دوران فلکیاتی اور موسمیاتی تحقیق کے لیے یہ وقت بہت اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ سائنسدان سورج کی حرکت اور موسمی نمونوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
یہ قطبی رات دنیا کے شمالی قطبی علاقوں میں ہر سال دیکھنے کو ملتی ہے، لیکن الاسکا میں یہ سب سے زیادہ طویل اور نمایاں ہوتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف ماحول بلکہ انسانی طرز زندگی پر بھی واضح طور پر نظر آتے ہیں۔
