کٹھمنڈو | 4 دسمبر 2025:
نیپال میں یومِ عالمی مٹی 5 دسمبر کو ملک بھر میں وسیع پیمانے پر آگاہی مہمات اور مٹی کی جانچ کے خصوصی پروگراموں کے ساتھ منایا جائے گا۔ ان سرگرمیوں کا مقصد کسانوں اور عام شہریوں کو مٹی کی صحت، متوازن کھاد کے استعمال اور پائیدار زرعی طریقوں سے متعلق آگاہ کرنا ہے۔
محکمۂ زراعت، وزارتِ زراعت و مویشی ترقی کے تحت، نے بتایا کہ اس سال عالمی سطح پر یہ دن “صحت مند مٹی، صحت مند شہر” کے نعرے کے تحت منایا جا رہا ہے۔ عالمی مٹی کا دن پہلی مرتبہ 2013 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے خوراک و زراعت تنظیم (FAO) کی سفارش پر باضابطہ طور پر منظور کیا تھا، جبکہ نیپال میں اس دن کی پہلی تقریب 2014 میں پنچخل، کاوریپلانچوک میں منعقد کی گئی تھی جہاں موبائل مٹی جانچ سروس کا آغاز ہوا تھا۔
مٹی کی گرتی ہوئی حالت — تشویشناک اعداد و شمار
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نیپال میں ہر سال تقریباً 1.7 ملی میٹر زرخیز بالائی مٹی کٹاؤ کی نذر ہو جاتی ہے، جو ملکی زرعی پیداوار کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ڈیجیٹل سوائل میپ (DSM) کے مطابق:
54 فیصد مٹی تیزابی
29 فیصد غیر جانبدار
17 فیصد الکلائن پائی گئی
مشرقی نیپال کی مٹی مغربی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ تیزابی ہے۔
اسی طرح نامیاتی مادے (Organic Matter) کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق:
37 فیصد زمین میں نامیاتی مادہ کم
45 فیصد میں اوسط
جبکہ صرف 18 فیصد زمین میں مناسب سطح پر موجود ہے
تَرائی کے علاقوں میں نامیاتی مادے کی مقدار پہاڑی اور پہاڑی علاقوں سے کہیں کم پائی گئی ہے۔ اس وقت ملک میں مٹی میں نامیاتی مادے کی اوسط مقدار 2.59 فیصد ہے، جو گزشتہ سال 2.77 فیصد تھی۔
غذائی اجزا کی کمی بھی سنگین مسئلہ
محکمۂ زراعت کے مطابق:
28 فیصد مٹی میں نائٹروجن کی کمی
35 فیصد میں فاسفورس کم
اور 28 فیصد زمین میں پوٹاش کم مقدار میں موجود ہے
تَرائی کے علاقوں میں نائٹروجن کی کمی خاص طور پر زیادہ دیکھی گئی ہے، جس سے فصلوں کی پیداوار اور معیار دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔
مٹی کی خرابی کی بڑی وجوہات
ماہرین کے مطابق نیپال میں مٹی کی بگڑتی ہوئی حالت کی اہم وجوہات میں شامل ہیں:
کیمیائی کھادوں کا غیر متوازن استعمال
گوبر، کمپوسٹ اور سبز کھاد کا کم استعمال
زرعی زہروں (پیسٹی سائیڈز) کا بڑھتا ہوا رجحان
فصلوں کی گردش (Crop Rotation) نہ ہونا
فصل کے بعد باقیات جلانا
غیر سائنسی کاشتکاری
صنعتی آلودگی اور تیز شہری پھیلاؤ
موسمیاتی تبدیلی، سیلاب اور کٹاؤ
یہ تمام عوامل غذائی تحفظ اور قدرتی ماحولیاتی نظام کے لیے شدید خطرہ بن چکے ہیں۔
حکومتی اقدامات اور مستقبل کی حکمتِ عملی
حکومت مٹی کے تحفظ کے لیے مختلف پالیسی اقدامات پر عمل کر رہی ہے۔
قومی کھاد پالیسی 2058 مٹی کی زرخیزی میں بہتری اور زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے نافذ ہے، جبکہ ڈیجیٹل سوائل میپ مہم جو فروری 2021 میں شروع کی گئی تھی، اب بھی جاری ہے، جس کے ذریعے کسانوں کو سائنسی بنیادوں پر مٹی کی جانچ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
محکمۂ زراعت نے کسانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ:
باقاعدگی سے مٹی کی جانچ کروائیں
جدید زرعی طریقے اپنائیں
فصلوں کی گردش کریں
اور نامیاتی کھاد کا زیادہ استعمال کریں
حکام کو امید ہے کہ یومِ عالمی مٹی کے موقع پر جاری ہونے والی یہ آگاہی مہمات ملک میں مٹی کی حفاظت اور زرعی استحکام کے لیے ایک مؤثر کردار ادا کریں گی۔
