پشاور/راولپنڈی – خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنداپور نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کے کام میں کوئی کمی نہیں آنے دی جائے گی۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں مزید طوفانی بارشوں کی پیش گوئی کردی ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق صرف خیبر پختونخوا میں جاں بحق افراد کی تعداد 313 ہوگئی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ نقصان بونیر میں ہوا، جہاں 208 افراد لقمۂ اجل بنے اور درجنوں تاحال لاپتہ ہیں۔ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں بالترتیب 12 اور 11 اموات رپورٹ ہوئیں، جس کے بعد شمالی علاقوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کم از کم 336 ہوگئی۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے بھر میں 159 مکانات کو نقصان پہنچا جن میں 62 مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ تین فوجی بٹالینز اور سیکڑوں سول ڈیفنس اہلکار ریلیف سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ گنداپور نے بونیر کے دورے کے موقع پر ساڑھے 15 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا اور کہا کہ متاثرین کو خوراک، خیمے اور ادویات فراہم کی جارہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا:
"جان کا نقصان کسی صورت پورا نہیں کیا جاسکتا، مگر مالی نقصانات کا 100 فیصد ازالہ کریں گے۔”
حکام کے مطابق 3,500 سے زائد افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا جبکہ ملبہ ہٹانے اور سڑکوں کی بحالی کا کام تیز رفتاری سے جاری ہے۔ آٹھ اضلاع میں ہنگامی صورتحال نافذ کردی گئی ہے اور مزید ہیلی کاپٹرز کی فراہمی کی درخواست کی گئی ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد اور راولپنڈی میں شدید بارشوں کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہوگئی۔ ریسکیو 1122 کو ہائی الرٹ پر رکھتے ہوئے نشیبی علاقوں میں عملہ تعینات کردیا گیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور ترکی کی وزارتِ خارجہ نے پاکستان میں جانی نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔
