اسلام آباد: پاکستان نے پہلگام حملے کے بعد بھارت کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی ایک المناک واقعے کو سیاسی اور سفارتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ پاکستانی مؤقف یہ ہے کہ بغیر قابلِ اعتبار شواہد کے الزامات دہرانا ایک “جھوٹے بیانیے” کو ہتھیار بنانے کے مترادف ہے۔
یہ تنازع 22 اپریل 2025 کے اس حملے کے بعد شدت اختیار کر گیا جس میں بھارتی حکام کے مطابق 26 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 25 بھارتی شہری اور ایک نیپالی شہری شامل تھا۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے کو بڑا دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر اسے سرحد پار دہشت گردی کے تناظر میں پیش کیا۔
بھارت نے 7 مئی 2025 کو “آپریشن سندور” سے متعلق بریفنگ میں واضح طور پر کہا کہ پہلگام حملہ لشکرِ طیبہ سے وابستہ “پاکستانی اور پاکستان میں تربیت یافتہ” عناصر نے کیا۔ اسی مؤقف کی بنیاد پر نئی دہلی نے پاکستان کے خلاف متعدد اقدامات کا اعلان کیا، جن میں سندھ طاس معاہدے کو معطل حالت میں رکھنا اور اٹاری چیک پوسٹ بند کرنا بھی شامل تھا۔
پاکستان نے اس کے جواب میں کہا کہ بھارت کے الزامات ثبوت سے زیادہ سیاسی بیانیے پر کھڑے ہیں۔ اسلام آباد کی طرف سے جاری بیانات میں کہا گیا کہ بھارتی دعوے “من گھڑت باتوں” سے بھرپور ہیں اور ان کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ پاکستانی مؤقف یہ بھی رہا کہ کسی سانحے کو علاقائی کشیدگی بڑھانے اور جارحانہ پالیسیوں کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
ایک سال بعد بھی اس حملے کے اثرات ختم نہیں ہوئے۔ 23 اپریل 2026 کو پہلی برسی کے موقع پر بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت “دہشت گردی کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا”، جبکہ بھارتی فوج نے بھی یہ پیغام دیا کہ بھارت کے خلاف کسی بھی کارروائی کا “یقینی جواب” دیا جائے گا۔
دوسری جانب بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلگام حملے کے ایک سال بعد بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی اور سفارتی تعلقات معمول پر نہیں آ سکے، اور پنجاب کے سرحدی راستوں پر بندش یا سخت پابندیوں کا ماحول برقرار ہے۔
یوں اس پورے معاملے میں دونوں ملک ایک بار پھر اپنے اپنے سخت مؤقف پر قائم دکھائی دیتے ہیں۔ بھارت کہتا ہے کہ پہلگام حملے نے پاکستان سے جڑے شدت پسند نیٹ ورکس کے خطرے کو بے نقاب کیا، جبکہ پاکستان اصرار کرتا ہے کہ بھارت نے الزام تو لگایا ہے مگر قابلِ قبول ثبوت پیش نہیں کیے۔ ان متضاد دعوؤں کے بیچ ایک حقیقت بدستور سب سے بھاری ہے: پہلگام میں 26 جانیں ضائع ہوئیں، اور اس سانحے کی بازگشت آج بھی خطے کی سیاست، سفارت کاری اور سلامتی کے ماحول پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
