بچپن میں کینسر جیسے موذی مرض سے بچ نکلنے والے افراد کے لیے زندگی بھر ثانوی صحت کے مسائل کا خطرہ منڈلاتا رہتا ہے، لیکن نئی طبی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ صرف جنیاتی اثرات یا ماضی کا علاج ہی سب کچھ نہیں، بلکہ روزمرہ کے معمولات زندگی اور موت کا فرق ثابت ہو سکتے ہیں۔
متوازن غذا اور مستقل جسمانی سرگرمیوں کو اپنا کر یہ افراد دل کے امراض، ذیابیطس اور دوبارہ کینسر ہونے جیسے خطرات کو واضح طور پر کم کر سکتے ہیں۔ طویل مدتی طبی نگرانی کے بعد سامنے آنے والے یہ نتائج ماہرین کی توجہ محض ‘علاج کے بعد کی نگرانی’ سے ہٹا کر ‘فعال طرزِ زندگی’ کی طرف مبذول کرا رہے ہیں۔
برسوں تک طبی ماہرین کا خیال رہا کہ کیموتھراپی اور ریڈی ایشن کے ‘لیٹ ایفیکٹس’ (علاج کے دیرپا اثرات) ناگزیر ہیں اور مریض ان سے بچ نہیں سکتے۔ تاہم، حالیہ ڈیٹا بتاتا ہے کہ یہ تصویر نامکمل ہے۔ آنکولوجسٹ ڈاکٹر ایلینا روسی کہتی ہیں، "مریض بے بس نہیں ہیں۔ ہم نے دہائیوں تک کینسر کے علاج سے ہونے والے نقصانات کو سنبھالنے میں وقت گزارا، لیکن اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ مریض کا اپنا روزمرہ کا معمول ان زہریلے اثرات کے خلاف ایک طاقتور ڈھال کا کام کرتا ہے۔” اعداد و شمار اس حوالے سے بالکل واضح ہیں:
وہ افراد جو اپنا وزن (BMI) قابو میں رکھتے ہیں اور ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل ورزش کرتے ہیں، ان میں میٹابولک سنڈروم پیدا ہونے کا امکان سست طرزِ زندگی گزارنے والوں کے مقابلے میں 40 فیصد کم ہوتا ہے۔ یہ فرق ان مریضوں میں اور بھی زیادہ نمایاں ہے جنہیں ماضی میں ایسی مخصوص کیموتھراپی دی گئی تھی جس سے دل کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اس سب کے باوجود، اصل چیلنج ان عادات پر عمل درآمد ہے۔ کینسر سے بچ جانے والے اکثر افراد ‘طبی تھکن’ (Medical Fatigue) کا شکار ہوتے ہیں۔ برسوں ہسپتالوں کے چکر کاٹنے اور تکلیف دہ طریقہ کار سے گزرنے کے بعد، دوبارہ کسی سخت ورزش یا ڈائٹ پلان پر عمل کرنا انہیں ایک بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ لیوکیمیا کو شکست دینے والی سارہ جینکنز کہتی ہیں، "یہ صرف ‘بہتر کھانے’ کی بات نہیں ہے۔ ہمارے لیے ہسپتال دوسرا گھر بن چکا تھا۔
ہمیں صحت کو ایک ایسے انتخاب کے طور پر دیکھنا ہوگا جسے ہم اپنے مستقبل کے لیے خود چن رہے ہیں، نہ کہ کسی ایسے نسخے کے طور پر جو ہم پر زبردستی تھوپا گیا ہے۔” اب طبی ہدایات (Clinical Guidelines) میں ‘طرزِ زندگی کے نسخوں’ کو علاج کا لازمی حصہ بنایا جا رہا ہے۔ اس میں مریضوں کو ایسے غذائی ماہرین اور فزیو تھراپسٹ کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے
جو کینسر کے علاج سے پیدا ہونے والی جسمانی پیچیدگیوں اور میٹابولک تبدیلیوں کو گہرائی سے سمجھتے ہیں۔ دائمی بیماریاں کینسر سے بچ جانے والے بالغ افراد میں اموات کی سب سے بڑی وجہ بن رہی ہیں۔ طرزِ زندگی میں تبدیلی کا اصل مقصد ان افراد کو محض ‘مریض’ کے درجے سے نکال کر ایک ایسی بھرپور زندگی فراہم کرنا ہے جہاں ان کی میڈیکل ہسٹری ان کی روزمرہ کی صلاحیتوں اور مستقبل کے خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔
