ایران میں جاری تنازع نے عالمی سپلائی چین کو شدید متاثر کر دیا ہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ضروری اشیاء کی فراہمی متاثر اور قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سب سے زیادہ اثر اہم سمندری راستوں خصوصاً آبنائے ہرمز پر پڑا ہے جو عالمی تجارت کا ایک اہم گزرگاہ ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ کے باعث تیل، ایل این جی، کھاد، پیٹروکیمیکلز اور صنعتی خام مال کی ترسیل متاثر ہوئی ہے جس کے اثرات توانائی، زراعت، صنعت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں تک پھیل گئے ہیں۔
توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے جس کے نتیجے میں خوراک، ایندھن، کیمیکلز، پلاسٹک اور دیگر اشیاء مہنگی ہو رہی ہیں۔ کئی ممالک میں صنعتیں خام مال کی کمی اور ترسیل میں تاخیر کا سامنا کر رہی ہیں جبکہ شپنگ روٹس طویل اور مہنگے ہو گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ بحران صرف توانائی تک محدود نہیں رہا بلکہ کھاد اور صنعتی کیمیکلز کی کمی سے زرعی پیداوار اور غذائی تحفظ کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہیلیم اور ایلومینیم جیسے اہم مواد کی کمی نے صحت، الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹر صنعتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ صورتحال میں بہتری آ بھی جائے تو عالمی سپلائی چین کو مکمل بحالی میں کئی ماہ یا سال لگ سکتے ہیں کیونکہ موجودہ رکاوٹوں نے عالمی تجارت کے نظام کو ساختی طور پر متاثر کیا ہے۔ حکومتیں اور کمپنیاں متبادل راستے اور اضافی ذخائر بنانے پر غور کر رہی ہیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے بحران سے بچا جا سکے۔
