پاکستان میں مئی 2026 کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلاتِ زر 4.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملکی تاریخ میں کسی بھی ایک ماہ کے دوران موصول ہونے والی سب سے زیادہ رقم قرار دی جا رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ترسیلاتِ زر میں یہ غیر معمولی اضافہ ملکی معیشت اور زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرینِ معیشت کے مطابق ترسیلاتِ زر میں ریکارڈ اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانی اب بھی ملکی مالیاتی نظام اور بینکاری چینلز پر اعتماد رکھتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ رقوم سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئیں، جبکہ برطانیہ، یورپ اور شمالی امریکا سے بھی ترسیلات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈیجیٹل بینکاری نظام میں بہتری، آسان منی ٹرانسفر سہولیات اور اوورسیز پاکستانیوں کی بڑھتی ہوئی معاشی سرگرمیوں نے ترسیلاتِ زر میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ موسمی عوامل اور خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے بھیجی جانے والی رقوم بھی اس اضافے کی ایک بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہیں۔
حکومتی حکام نے اس پیش رفت کو ملکی معیشت کے لیے حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترسیلاتِ زر میں اضافہ پاکستانی روپے کو استحکام دینے، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی بہتری آنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ترسیلاتِ زر میں یہی مثبت رجحان برقرار رہا تو یہ پاکستان کو عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور مالی دباؤ سے نمٹنے میں اہم سہارا فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے آسان اور محفوظ بینکاری سہولیات کی فراہمی مستقبل میں بھی ترسیلاتِ زر بڑھانے کے لیے ضروری ہوگی۔
