امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جبکہ امریکی اسٹاک مارکیٹ کا ڈاؤ جونز انڈیکس نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔
رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد کمی ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ محفوظ ہونے کی امید نے عالمی توانائی مارکیٹ کو مثبت اشارہ دیا۔
دوسری جانب وال اسٹریٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا، جس کے باعث ڈاؤ جونز انڈیکس ریکارڈ بلند سطح تک پہنچ گیا۔ ایئرلائن، ٹیکنالوجی اور سفری شعبوں کے شیئرز میں تیزی دیکھی گئی، جبکہ تیل کمپنیوں کے حصص میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے عالمی تجارتی راستوں میں استحکام اور مہنگائی میں کمی آنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ سرمایہ کار اب مزید سفارتی پیش رفت اور امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
