کراچی: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور اس کے تجارتی اثرات کے باعث پاکستان کی آم کی برآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے برآمد کنندگان اور کاشتکاروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
برآمد کنندگان کے مطابق خلیجی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پاکستانی آموں کی بڑی منڈیاں ہیں، تاہم حالیہ تنازعات کے باعث شپنگ نظام، لاجسٹکس اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں مال برداری کے اخراجات میں اضافہ اور ترسیل میں تاخیر دیکھنے میں آ رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ پھلوں کی برآمدات وقت کی پابندی کی متقاضی ہوتی ہیں، اور کسی بھی تاخیر سے مصنوعات کے معیار اور قیمت دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔ کئی برآمد کنندگان متبادل راستوں اور نئے خریداروں کی تلاش میں مصروف ہیں تاکہ نقصانات کو کم کیا جا سکے۔
زرعی ماہرین کے مطابق آم پاکستان کی اہم برآمدی فصلوں میں شامل ہے اور اس کی برآمدات سے ملک کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ برآمدات میں کمی کا اثر نہ صرف تاجروں بلکہ کسانوں کی آمدنی پر بھی پڑ سکتا ہے۔
ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ برآمد کنندگان کو سہولتیں فراہم کی جائیں، نئی منڈیوں تک رسائی بڑھائی جائے اور کولڈ چین انفراسٹرکچر کو مضبوط بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے بیرونی عوامل کے اثرات کم کیے جا سکیں۔
