برطانیہ کے شہزادے پرنس ہیری کا آئندہ ماہ جولائی میں ہونے والا دورہِ برطانیہ شدید مشکلات اور تنازعات کا شکار ہو گیا ہے، جس کی بڑی وجہ ان کی جانب سے شاہی خاندان کو بھیجی گئی مطالبات کی ایک مبینہ فہرست ہے۔
ذرائع کے مطابق، ڈیوک آف سسیکس جولائی میں کھیلوں کی ایک تقریب اور فلاحی ایوارڈز کی تقریب میں شرکت کے لیے برطانیہ جا رہے ہیں۔ انہوں نے محل کو بھیجے گئے مطالبات میں واضح کیا ہے کہ اگر ان کی اہلیہ میگھن مارکل کبھی برطانیہ واپس آئیں تو ان کے ساتھ عزت سے پیش آیا جائے اور انہیں کسی بھی صورت میں غلط بنا کر پیش نہ کیا جائے۔ شاہی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہزادہ ہیری کے ان مطالبات نے محل کے اعلیٰ حکام کو سخت ناراض کیا ہے، جبکہ شہزادے کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں ان کے پاس ایسا کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔
شہزادہ ہیری کے اس دورے میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی سیکیورٹی کا معاملہ ہے۔ وہ برطانوی وزارتِ داخلہ کے خلاف سرکاری پولیس سیکیورٹی کی بحالی کا قانونی مقدمہ ہار چکے ہیں، تاہم وہ اب بھی اس فیصلے کو بدلوانے کے لیے خفیہ کوششیں کر رہے ہیں اور ان کی قانونی ٹیم نے نجی تفتیش کاروں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ اگرچہ شاہ چارلس کی طرف سے دعوت ملنے کی صورت میں انہیں خود بخود سرکاری سیکیورٹی مل سکتی ہے، لیکن وزارتِ داخلہ کے متعلقہ حکام کا ماننا ہے کہ شہزادے کو اب کوئی رعایت نہیں دی جا سکتی۔ حکام کے مطابق، ایسے وقت میں جب برطانوی عوام شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں، ایک ایسے شخص پر عوامی ٹیکس کا پیسہ خرچ کرنا جو نجی معاہدوں سے کروڑوں روپے کما رہا ہے، عوام میں شدید غصے کا باعث بنے گا۔
دوسری جانب، شاہی محل نے شہزادہ ہیری کے ان مطالبات پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ شاہ چارلس اپنے بیٹے کی طرف سے سیکیورٹی اور دیگر معاملات پر مسلسل ڈالے جانے والے دباؤ سے ناخوش ہیں اور وہ اس دورے کے دوران ہیری سے ملاقات کے لیے اپنا وقت نکالنے پر بالکل تیار نہیں ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، ہیری کے اس چار روزہ تنہا دورے کے دوران شاہی خاندان کا کوئی بھی رکن ان سے ملاقات نہیں کرے گا۔
شہزادہ ہیری کی اپنے والد سے آخری مختصر ملاقات فروری میں ہوئی تھی جب شاہ چارلس کی بیماری کی خبر سامنے آئی تھی۔ ان کے اپنے بڑے بھائی پرنس ولیم کے ساتھ تعلقات بھی انتہائی کشیدہ ہیں اور دونوں کے درمیان دوری برقرار ہے۔ محل کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہی خاندان اب بھی شہزادہ ہیری سے فاصلہ برقرار رکھے ہوئے ہے، اور خود ہیری بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ خاندان کے کچھ ارکان شاید انہیں معاف کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، جس کے باعث فریقین کے درمیان صلح کے امکانات اب انتہائی معدوم نظر آتے ہیں۔
