امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کی جانب سے رواں سال ستمبر کے مہینے میں اپنی نئی موبائل سیریز متعارف کرائے جانے کا قوی امکان ہے، جس میں آئی فون 18، پرو، پرو میکس اور کمپنی کا پہلا فولڈ ہونے والا فون شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ نئی ڈیوائسز حال ہی میں متعارف کروائے گئے نئے آپریٹنگ سسٹم پر چلیں گی۔ کمپنی کے نئے سربراہ جان ٹرنس یکم ستمبر سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور وہ ہی اس نئی سیریز کو دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔
مصنوعی ذہانت کی صنعت میں تیزی کے باعث دنیا بھر میں میموری چپس کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے اس بار نئے فونز کی قیمتوں میں بڑا اضافہ متوقع ہے۔ کمپنی کے سبکدوش ہونے والے سربراہ ٹم کک نے بھی تصدیق کی ہے کہ قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق نئے پرو ماڈل کی قیمت ماضی کے مقابلے میں 200 ڈالر تک زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ اس بار فون میں استعمال ہونے والے پرزوں کی لاگت میں کمپنی کے لیے 150 ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔
تصویر اور ڈیزائن کے لحاظ سے نئے ماڈلز کی اسکرین کا سائز ماضی جتنا ہی رہنے کی امید ہے، تاہم اس بار اسکرین کی چمک پہلے سے کہیں زیادہ ہوگی۔ اس کے علاوہ اسکرین پر موجود نوٹیفکیشن والے حصے کا سائز چھوٹا کر دیا گیا ہے۔ پرو ماڈلز کے لیے اس بار چاندی، سرمئی، ہلکے نیلے اور گہرے سرخ رنگوں کے انتخاب دستیاب ہوں گے۔ اندرونی ساخت کی بات کی جائے تو اس بار تمام ماڈلز میں عارضی میموری یعنی ریم کو بڑھا کر 12 جی بی کر دیا گیا ہے اور ان میں نئے طاقتور پروسیسرز لگائے گئے ہیں۔ انٹرنیٹ اور نیٹ ورک کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے نئے چپس اور 5 جی سیٹلائٹ کی سہولت بھی دی جا رہی ہے، جبکہ پرو ماڈلز میں بیٹری کی گنجائش کو بڑھا کر 5000 ایم اے ایچ سے زیادہ کیا جا رہا ہے۔
نئے فونز کے کیمرہ سسٹم میں اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔ پرو ماڈلز کے کیمرے میں روشنی کو کنٹرول کرنے والا ایک متحرک نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کی مدد سے تصاویر کھینچتے وقت پسِ منظر کو دھندلا کرنے کا عمل سافٹ ویئر کے بجائے براہِ راست کیمرے کے لینس سے ممکن ہوگا، جس سے تصویر کا معیار انتہائی شاندار ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ فونز میں ڈیجیٹل اسسٹنٹ ‘سیری’ کو بھی پہلے سے زیادہ اسمارٹ اور گوگل کے ‘جیمنائی’ نظام سے لیس کیا جا رہا ہے، جو صارف کی اسکرین پر موجود معلومات کو سمجھ کر کام کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔
