کراچی میں ڈکیتی کے دوران فائرنگ سے ایک نوجوان کی ہلاکت اور اس کی اہلیہ کے شدید زخمی ہونے کے واقعے نے شہر میں ایمرجنسی طبی امداد کے نظام کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کر دیا ہے۔ مقتول کے والد کے مطابق، ان کی زخمی بہو پانچ گھنٹے تک سڑک پر پڑی مدد کی دہائیاں دیتی رہی، جبکہ ان کا بیٹا وہیں دم توڑ چکا تھا۔
اسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول کے والد نے کربناک تفصیلات بتائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح ملزمان نے جوڑے کو لوٹنے کی کوشش کی، مزاحمت پر فائرنگ کی اور فرار ہو گئے۔ اس کے بعد جو ہوا وہ شہر کی بے حسی کی انتہا ہے۔
"میری بہو پانچ گھنٹے تک مدد کے لیے پکارتی رہی،” بوڑھے باپ نے کپکپاتی آواز میں کہا۔ "پانچ گھنٹے تک کوئی نہیں آیا۔ کسی نے مدد نہیں کی۔”
کراچی میں اسٹریٹ کرائم اب معمول بن چکا ہے، لیکن اس واقعے کا بھیانک پہلو طبی امداد میں تاخیر ہے۔ اکثر نجی اسپتال پولیس کے پہنچنے تک زخمیوں کو طبی امداد دینے سے انکار کر دیتے ہیں، اور پولیس کا ردعمل اتنا سست ہوتا ہے کہ اکثر اوقات زخمی ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ شہر ہے یا قبرستان؟ مقتول کے والد کا یہ سوال کراچی کے ہر اس شہری کی آواز ہے جو روزانہ گھر سے نکلتے ہوئے اپنی جان کا خوف محسوس کرتا ہے۔
پولیس کا روایتی بیان سامنے آیا ہے کہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ لیکن ان بیانات سے اس خاندان کا نقصان پورا نہیں ہو سکتا جنہیں معلوم ہوا کہ مشکل کی اس گھڑی میں وہ ریاست کے رحم و کرم پر نہیں، بلکہ مکمل طور پر تنہا تھے۔
مقتول کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ زخمی خاتون اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ ملزمان تاحال قانون کی گرفت سے دور ہیں۔ اس خاندان کے لیے صدمہ صرف قتل نہیں، بلکہ وہ پانچ گھنٹے ہیں جو انہوں نے اس احساس کے ساتھ گزارے کہ اس شہر میں خون بہنے پر مدد کا کوئی وقت مقرر نہیں۔
