سندھ ہائی کورٹ نے ایک مقامی بیکری پر "ناقص اور پھپھوندی لگی ڈبل روٹی” بیچنے کا بے بنیاد الزام لگانے والے گاہک کو 15 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جس میں ابتدائی طور پر گاہک کے حق میں فیصلہ دیا گیا تھا۔
جسٹس ذوالفقار احمد خان نے اپنے فیصلے میں گاہک کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ دعوے کے حق میں کسی قسم کے ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ گاہک کی جانب سے دائر کی گئی قانونی چارہ جوئی کا مقصد حقائق سامنے لانا نہیں، بلکہ ایک کاروباری ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔
تنازع کا آغاز تب ہوا جب ایک گاہک نے دعویٰ کیا کہ بیکری سے خریدی گئی ڈبل روٹی میں پھپھوندی لگی ہوئی تھی۔ گاہک نے صحت کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے معاوضے کا مطالبہ کیا، تاہم بیکری انتظامیہ نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے بھتہ خوری اور برانڈ کی شہرت خراب کرنے کی سازش قرار دیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران بیکری انتظامیہ نے اپنے کوالٹی کنٹرول اور صفائی کے معیارات سے متعلق تمام دستاویزی ثبوت پیش کیے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ گاہک اس بات کا کوئی لیبارٹری رپورٹ یا فرانزک ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا جس سے یہ ثابت ہوتا کہ ڈبل روٹی واقعی آلودہ تھی۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا، "عدالت قانون کے عمل کو کسی کاروبار کو ہراساں کرنے یا نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔”
15 لاکھ روپے کا یہ جرمانہ اس مالی نقصان اور ساکھ کو پہنچنے والے دھچکے کے ازالے کے طور پر لگایا گیا ہے جو اس مقدمے کے دوران بیکری کو برداشت کرنا پڑا۔ اس فیصلے کے ذریعے عدالت نے واضح پیغام دیا ہے کہ صارفین کے حقوق کے تحفظ کے قوانین کا غلط استعمال برداشت نہیں کیا جائے گا اور ہر دعوے کے لیے ٹھوس شواہد لازمی ہیں۔
یہ فیصلہ فوڈ کوالٹی کے تنازعات سے نمٹنے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگرچہ صارف تحفظ قوانین عوام کی بہتری کے لیے بنائے گئے ہیں، لیکن عدالت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کسی بھی کاروباری ادارے کو کٹہرے میں لانے کے لیے محض زبانی دعوے کافی نہیں ہیں۔ بیکری انتظامیہ اب اس قانونی جنگ سے نکل کر اپنے کاروبار پر توجہ دے رہی ہے، مگر اس فیصلے نے ان افراد کے لیے ایک سخت سبق چھوڑ دیا ہے جو بغیر ثبوت کے کاروباری اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
