وال سٹریٹ بدھ کے روز شدید دباؤ کی زد میں رہا۔ سرمایہ کاروں نے ٹیکنالوجی کے بڑے ناموں سے کنارہ کشی اختیار کی، جس کے نتیجے میں گوگل کی پیرنٹ کمپنی ‘الفابیٹ’ اور ‘ٹیسلا’ کی مارکیٹ ویلیو سے اربوں ڈالر صاف ہو گئے۔ یہ فروخت کا عمل اس وقت شروع ہوا جب دونوں کمپنیوں نے اپنے بھاری سرمایہ کاری کے اعداد و شمار جاری کیے، جس نے شیئر ہولڈرز کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ مصنوعی ذہانت پر کیا جانے والا یہ بے تحاشا خرچہ واقعی سودمند ہے یا نہیں۔
الفابیٹ کے حصص میں ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران 5 فیصد کمی دیکھی گئی۔ کمپنی نے آمدنی کی توقعات سے بہتر کارکردگی دکھائی، لیکن اس کا کیپیٹل ایکسپنڈیچر (سرمایہ کاری) بڑھ کر 13 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ یہ رقم بنیادی طور پر ‘جیمنائی’ اور دیگر اے آئی ماڈلز کے لیے درکار ڈیٹا سینٹرز اور چپس کی تیاری پر خرچ کی جا رہی ہے۔ سرمایہ کار اس بھاری اخراجات کو کمپنی کے منافع کے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں۔
ٹیسلا کو اس سے بھی زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ کمپنی کے حصص تقریباً 12 فیصد گر گئے، جس کی بڑی وجہ ان کا حالیہ ارننگز کال تھا۔ سی ای او ایلون مسک کی توجہ مکمل طور پر خود کار گاڑیوں اور ہیومینائیڈ روبوٹس پر مرکوز ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ کمپنی کے منافع کے مارجن سکڑ رہے ہیں۔ ای وی (الیکٹرک وہیکل) مارکیٹ میں سستی کے باعث ٹیسلا کو اپنی گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنا پڑ رہی ہیں، جس کا اثر براہِ راست منافع پر پڑ رہا ہے۔
مارکیٹ کا مزاج بدل چکا ہے۔ پچھلے کئی ماہ سے اے آئی کا خواب ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ویلیو ایشن کو آسمان پر لے گیا تھا، لیکن اب سرمایہ کار ‘نتائج’ مانگ رہے ہیں۔ گوگل کے بنیادی سرچ بزنس کی آمدنی مستحکم ضرور ہے، لیکن یہ اتنی تیز نہیں کہ اے آئی انفراسٹرکچر پر کیے جانے والے اربوں ڈالر کے اخراجات کا بوجھ اٹھا سکے۔
ایک سینئر مارکیٹ تجزیہ کار نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "مارکیٹ بالآخر حساب کتاب کر رہی ہے۔ دو سال تک سرمایہ کار صرف خواب خرید رہے تھے، اب وہ بیلنس شیٹ دیکھ رہے ہیں۔ اے آئی کی اس دوڑ میں اخراجات اب کمپنی کے منافع کو نگل رہے ہیں۔”
یہ اتار چڑھاؤ صرف ان دو کمپنیوں تک محدود نہیں۔ مائیکروسافٹ اور میٹا—جو خود بھی اے آئی میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں—کے حصص بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ خدشہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی سیکٹر ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں اے آئی انفراسٹرکچر کو برقرار رکھنے کی قیمت اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کہیں زیادہ ہے۔
ٹیسلا کی صورتحال کچھ مختلف اور زیادہ تشویشناک ہے۔ ایلون مسک نے کمپنی کا رخ اے آئی کی طرف موڑ دیا ہے، اور سرمایہ کاروں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ گاڑیوں کی فروخت میں کمی کو نظر انداز کر کے مستقبل کے ‘روبوٹیکسی’ کے خواب پر یقین رکھیں۔ بدھ کی گراوٹ یہ بتاتی ہے کہ سرمایہ کاروں کا صبر جواب دے رہا ہے۔ وال سٹریٹ کو کل کے خودکار مستقبل کے وعدوں کے بجائے آج گاڑیوں کی فروخت سے منافع چاہیے۔
سال کی پہلی ششماہی میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں آنے والی تیزی اب تیزی سے ٹھنڈی پڑ رہی ہے۔ جیسے جیسے ارننگز کا سیزن آگے بڑھے گا، دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ ثابت کریں کہ ان کے یہ اخراجات منافع کی طرف جانے والا پل ہیں، نہ کہ ایک ایسا گڑھا جس کا کوئی کنارہ نہیں۔
