راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے آخری ون ڈے میچ میں سری لنکا نے پاکستان کو شکست دے کر تین میچوں کی سیریز 2-1 سے جیت لی۔ میزبان ٹیم اپنی بیٹنگ لائن اپ کی ناکامی کے باعث سیریز کے فیصلہ کن معرکے میں حریف ٹیم کو درکار ہدف کا دفاع کرنے میں بری طرح ناکام رہی۔
میچ کا آغاز پاکستان کے لیے مایوس کن رہا۔ ٹاپ آرڈر بلے باز وکٹ پر ٹک کر کھیلنے میں ناکام رہیں جس کے نتیجے میں پوری ٹیم سری لنکن بولرز کے سامنے بے بس نظر آئی۔ سری لنکن بولنگ اٹیک نے شروع سے ہی دباؤ برقرار رکھا اور پاکستانی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔
سری لنکن کپتان چماری اتھاپاتھو سیریز میں سب سے نمایاں رہیں۔ ان کی جارحانہ بیٹنگ اور وکٹ پر قیام نے میچ کا پانسہ پلٹا۔ دوسری جانب، پاکستانی بولرز نے کچھ اچھی گیندیں ضرور کرائیں لیکن وہ سری لنکن بلے بازوں کی بڑھتی ہوئی رن ریٹ کو روکنے میں ناکام رہے۔
میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی کپتان ندا ڈار نے کہا کہ "ہم پاور پلے میں اپنی حکمت عملی پر عمل درآمد نہیں کر سکیں۔ پچ کی صورتحال ہماری توقعات سے مختلف تھی، لیکن ہمیں دباؤ میں بہتر کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے۔”
یہ شکست پاکستان کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، خاص طور پر آئی سی سی ویمنز چیمپئن شپ میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کے حوالے سے۔ سیریز کے دوران مڈل آرڈر کی کمزوری اور اسٹرائیک روٹیٹ کرنے میں مشکلات واضح طور پر دکھائی دیں۔ یہ مسائل پچھلے دو سالوں سے ٹیم کا پیچھا کر رہے ہیں، جس پر اب تک کوئی مستقل حل نہیں نکالا جا سکا۔
سری لنکا کے لیے یہ فتح ان کی ڈومیسٹک ڈھانچے میں کی گئی سرمایہ کاری کا ثمر ہے۔ مہمان ٹیم نے تینوں میچوں میں کھیل پر کنٹرول برقرار رکھا اور پاکستانی اسپنرز کو ردھم میں آنے کا موقع نہیں دیا۔
ورلڈ کپ کوالیفائرز سر پر ہیں، ایسے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے یہ سیریز ایک تنبیہ ہے۔ ٹیم میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، لیکن ڈومیسٹک کرکٹ اور بین الاقوامی معیار کے درمیان خلیج مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سیریز کا اختتام سری لنکا کی شاندار فتح پر ہوا، جبکہ پاکستان کے لیے اب سلیکشن اور حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔
