کراچی: پاکستان ٹیلی ویژن انڈسٹری کی معروف اداکاراؤں ژالے سرحدی، عتیقہ اوڈھو اور جگن کاظم نے سینئر اداکارہ صبا حمید کی جانب سے ایک ہی چینل پر ایک ہی ساتھی اداکار (فران طاہر) کے ساتھ بیک وقت بیوی اور ماں کے مختلف کردار ادا کرنے پر شروع ہونے والی بحث میں حصہ لیا ہے۔ اس مباحثے نے پاکستانی ڈراما انڈسٹری میں عمر کے تقاضوں، کاسٹنگ اور صنفی تعصب کے حوالے سے پرانی بحث کو پھر سے تازہ کر دیا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت بحث کا محور بنا جب ایک کانکریٹ کری ایٹر نے اس تضاد کی طرف اشارہ کیا کہ صبا حمید ڈرامے "بس تیرا ساتھ ہو” میں فران طاہر کی اہلیہ کا کردار نبھا رہی ہیں جبکہ نئے ڈرامے "درِ نجات” میں وہی اداکارہ اسی طاہر کی والدہ کے روپ میں نظر آ رہی ہیں۔ اس انوکھی کاسٹنگ پر سوشل میڈیا پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا۔
اس موضوع پر بات کرتے ہوئے ژالے سرحدی نے موقف اختیار کیا کہ یہ بحث دراصل انڈسٹری کے اس دوہرے معیار کو ظاہر کرتی ہے جو عمر رسیدہ خواتین کے حوالے سے پایا جاتا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا، "بڑھاپا صرف خواتین کے لیے ہے! جب ہم بڑی عمر کو پہنچتی ہیں تو بدقسمتی سے ‘لڑکوں’ کے دائرے سے باہر نہیں نکل پاتیں۔” انہوں نے مشورہ دیا کہ تمام خواتین فنکاروں کو مل کر زیادہ حقیقت پسندانہ اور مناسب کرداروں کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔ مزاحیہ انداز میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بیان کے بعد شاید انہیں اپنے اگلے پروجیکٹ میں ہمایوں کی والدہ کا کردار مل جائے۔
دوسری جانب عتیقہ اوڈھو نے ایک انٹرویو کے دوران اس کاسٹنگ پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ صبا حمید کو فران طاہر کی ماں کے طور پر قبول کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صبا حمید دادی یا نانی جیسی نہیں لگتیں اور ان کا لک بہت ‘فاسٹ’ ہے۔
اس کے برعکس، جگن کاظم نے صبا حمید کی حمایت کرتے ہوئے اسے ان کی غیرمعمولی صلاحیتوں کا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے کہا، "لوگوں کی طرف سے اس بات پر بحث کی جا رہی ہے کہ وہ ایک ڈرامے میں بیوی اور دوسرے میں ماں کا کردار نبھا رہی ہیں۔ میرے نزدیک یہ کوئی الجھن کی بات نہیں بلکہ صبا حمید کی شاندار صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔”
اس بحث نے ناظرین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، جہاں ایک طرف روایتی کاسٹنگ اور عمر کے تضاد پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، وہیں دوسری طرف اداکاری کی پختگی اور ہنر کو عمر کی قید سے بالاتر قرار دیا جا رہا ہے۔
