اسلام آباد، 8 اگست 2026: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سے بچوں کا ب فارم بنوانے سے پہلے والدین کو چند اہم امور یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ درخواست میں غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے۔
والدین کے فعال شناختی کارڈز:
بچے کا ب فارم نادرا دفتر یا پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے بنوانے سے پہلے ضروری ہے کہ والد اور والدہ دونوں کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) فعال اور قابلِ استعمال ہوں اور ان کی میعاد ختم نہ ہوئی ہو۔
نادرا میں میاں بیوی کا ریکارڈ:
والدین کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ دونوں میاں بیوی کا ذاتی ریکارڈ نادرا کے ڈیٹا بیس میں درست طور پر درج ہو۔ اس میں ذاتی معلومات، والدین کے نام، شریک حیات کا نام اور شناختی کارڈ نمبرز شامل ہیں۔
ازدواجی حیثیت کا اندراج:
والد اور والدہ دونوں کی ازدواجی حیثیت نادرا کے ریکارڈ میں باقاعدہ طور پر "شادی شدہ” درج ہونی چاہیے۔
یونین کونسل میں بچے کی رجسٹریشن:
ب فارم کے اجرا سے قبل متعلقہ یونین کونسل (UC) میں بچے کی مکمل پیدائش کا اندراج مکمل ہونا ضروری ہے۔
تین سال سے زائد عمر کے بچوں کی حاضری:
تین سال سے زائد عمر کے بچوں کو ب فارم کے لیے نادرا مرکز میں خود حاضر ہونا ہوگا، جہاں ان کی تصویر اور انگوٹھے کے نشانات لیے جائیں گے۔
نادرا کی جانب سے ان تقاضوں پر پہلے سے عمل درآمد یقینی بنانے کا مقصد ب فارم کی درخواست کے عمل کو آسان بنانا اور ممکنہ تاخیر سے بچنا ہے۔
