پاکستان بھر میں پیٹرول پمپس کی متوقع بندش کا بحران ٹل گیا ہے۔ حکومت اور پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد ڈیلرز نے جمعہ سے شروع ہونے والی ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔
جمعرات کی شب ہونے والے معاہدے کے تحت حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر ڈیلرز کے مارجن میں ایک روپے 35 پیسے فی لیٹر اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ ڈیلرز طویل عرصے سے اس اضافے کا مطالبہ کر رہے تھے اور ان کا موقف تھا کہ بجلی کے بھاری بلوں اور ملازمین کی تنخواہوں کے بوجھ تلے کاروبار کرنا اب ممکن نہیں رہا۔
ایسوسی ایشن کے ایک صوبائی عہدیدار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں دیوار سے لگا دیا گیا تھا۔ حکومت نے بالآخر تسلیم کر لیا کہ موجودہ مارجن پر پیٹرول پمپ چلانا اب کاروبار نہیں بلکہ سراسر نقصان کا سودا ہے۔”
پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے ابتدائی طور پر اس مطالبے کو مسترد کیا تھا، جس کی بنیادی وجہ یہ خدشہ تھا کہ مارجن بڑھانے سے ایندھن کی قیمتوں میں براہِ راست اضافہ ہوگا، جو پہلے ہی ریکارڈ مہنگائی کی شکار عوام پر مزید بوجھ ڈالے گا۔ تاہم، ملک بھر میں ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے نظام کے مکمل طور پر ٹھپ ہونے کے خطرے نے حکومت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا۔
وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق، مارجن میں یہ اضافہ آئندہ پندرہ روزہ قیمتوں کے تعین کے دوران نافذ کیا جائے گا۔ ڈیلرز اسے اپنی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں، لیکن معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافی بوجھ بالآخر صارفین ہی کو منتقل کیا جائے گا۔
پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کے باعث پہلے ہی غیر مستحکم ہیں۔ ڈیلرز کے منافع کو ریٹیل قیمت میں شامل کر کے حکومت نے وقتی طور پر سپلائی چین کو تو بحال رکھا ہے، لیکن صارفین پر مہنگائی کا نیا بوجھ ڈالنے کی راہ بھی ہموار کر دی ہے۔
فی الحال پیٹرول پمپس کھلے رہیں گے اور ایندھن کی فراہمی معمول کے مطابق جاری رہے گی۔ تاہم، اگلی قیمتوں کے تعین کے وقت ڈیلرز کے منافع اور عوام کی قوتِ خرید کے درمیان کشمکش کا یہ دیرینہ مسئلہ دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔
