امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے اعلان کیا ہے کہ وہ 13 ربیع الاول کو ملک گیر ہڑتال کی حتمی تاریخ کا اعلان کریں گے۔ مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف جماعت اسلامی کا یہ اقدام حکومت پر دباؤ بڑھانے کی ایک اور کوشش ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم نے واضح کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور اب احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ انہوں نے اس ہڑتال کو حکومت کے لیے ایک "آخری وارننگ” قرار دیا ہے، جس کا مقصد عوام کی بڑھتی ہوئی بے چینی کو ایک منظم تحریک میں بدلنا ہے۔
13 ربیع الاول کی تاریخ کا انتخاب بظاہر ایک حکمت عملی ہے۔ مذہبی اہمیت کے حامل اس دن کے انتخاب سے جماعت اسلامی اپنے کارکنوں اور ہمدردوں کو ایک جذباتی اور اخلاقی بیانیے کے تحت یکجا کرنا چاہتی ہے۔ حافظ نعیم کا موقف ہے کہ حکمران طبقہ اپنی مراعات میں کمی کرنے کے بجائے سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال رہا ہے۔
دوسری جانب، وفاقی حکومت کا موقف بدستور سخت ہے۔ وزارتِ خزانہ کے حکام کا اصرار ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ کی شرائط پر عمل درآمد کے سوا ملکی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کا کوئی اور حل نہیں ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سبسڈی دینے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے اور عالمی منڈی کے نرخوں کے مطابق قیمتوں کا تعین ناگزیر ہے۔
حافظ نعیم نے حکومتی دلیلوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے "بدانتظامی کا نتیجہ” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دور اب ختم ہو چکے ہیں اور اب سڑکوں پر نکلنے کا وقت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بجلی کے نرخوں میں کمی نہ کی گئی تو ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔
اس ہڑتال کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ عوام اس کال پر کس حد تک لبیک کہتے ہیں۔ ماضی میں بھی احتجاجی کالیں دی جاتی رہی ہیں، لیکن حکومتی گرفت اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث ان کے نتائج ملے جلے رہے ہیں۔ تاہم، جماعت اسلامی کا تنظیمی نیٹ ورک ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے، جو حکومت کے لیے ایک بڑی دردِ سر ثابت ہو سکتا ہے۔
13 ربیع الاول کی تاریخ قریب آتے ہی سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوئی راستہ نکالتی ہے یا پھر ملک ایک طویل احتجاجی تحریک کی طرف بڑھتا ہے۔
