بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں حکومت کے زیر اہتمام ہونے والی اجتماعی شادیوں کی تقریب ایک بڑے فراڈ کا مرکز بن گئی۔ سرکاری امداد کے حصول کے لیے رجسٹرڈ ہونے والی 100 سے زائد خواتین تقریب میں پہنچیں ہی نہیں، جس سے اس اسکینڈل کی پرتیں کھل گئیں۔
یہ تقریب ’مکھیہ منتری کنیا دان یوجنا‘ کے تحت منعقد کی گئی تھی، جس کا مقصد غریب خاندانوں کی شادی کے اخراجات میں مدد کرنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ہر جوڑے کو تقریباً 50 ہزار روپے مالیت کی نقد رقم، گھریلو سامان اور زیورات دیے جاتے ہیں۔ یہ امداد غریب خاندانوں کے لیے تو ایک سہارا تھی، مگر بدعنوان عناصر کے لیے لوٹ مار کا ذریعہ بن گئی۔
داتیا ضلع میں ہونے والی تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ آرگنائزرز نے سرکاری گرانٹ بٹورنے کے لیے جعلی رجسٹریشن کروائی تھی۔ کئی جگہوں پر ایک ہی فرد کو بار بار رجسٹر کیا گیا یا کوٹہ پورا کرنے کے لیے نااہل امیدواروں کو شامل کیا گیا۔ ریکارڈ پر درج دلہنیں صرف کاغذوں تک محدود تھیں، جن کا مقصد بینک ٹرانسفر کے ذریعے سرکاری خزانے سے رقم نکلوانا تھا۔
ایک ضلعی انتظامی افسر نے تحقیقات کے دوران بتایا کہ "ہم نے بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں پکڑی ہیں۔ کاغذات مکمل تھے، فنڈز جاری کیے جا چکے تھے، لیکن جن لوگوں کے نام پر یہ رقم نکالی گئی، ان کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔”
یہ پورا فراڈ ان مقامی مڈل مینوں کی مدد سے کیا گیا جو دیہی آبادی اور سرکاری دفاتر کے درمیان کام کرتے ہیں۔ یہ ایجنٹ گرانٹ کی رقم میں سے بھاری کمیشن بٹورتے رہے، جو اس خطے میں عوامی فلاحی پروگراموں کی ایک پرانی بیماری ہے۔ شادیوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر دکھا کر ان ایجنٹوں نے سرکاری ریکارڈ میں اپنی کارکردگی ظاہر کی اور جیبیں بھریں۔
مقامی انتظامیہ نے تقریب کے لیے مختص فنڈز منجمد کر دیے ہیں اور تمام جوڑوں کی درخواستوں کا آڈٹ شروع کر دیا ہے۔ ریاستی حکومت پر اب یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ جانچ پڑتال کے دوران اتنی بڑی گڑبڑ حکام کی نظروں سے کیسے اوجھل رہی۔
ان خاندانوں کے لیے جو واقعی اس حکومتی امداد کے منتظر تھے، یہ انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ان کے مستقبل کی چوری ہے۔ پولیس اب ان مڈل مینوں کی تلاش میں ہے جنہوں نے سرکاری فلاحی منصوبے کو ایک مجرمانہ کاروبار میں بدل کر رکھ دیا۔
