شمالی فرانس کا پرسکون گاؤں بیہوکورٹ آج کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اتوار کی شام ایک شدید طوفانی بگولے نے اس بستی کو اپنی لپیٹ میں لیا، جس کے نتیجے میں گھروں کی چھتیں اڑ گئیں، صدیوں پرانے درخت جڑ سے اکھڑ گئے اور کم از کم 15 افراد زخمی ہو گئے۔
طوفان نے اتنی تیزی سے حملہ کیا کہ مقامی لوگوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا۔ ہوا تھمی تو ہر طرف لکڑی کے ٹکڑے، شیشے کے ریزے اور تباہ حال عمارتوں کا ڈھیر تھا۔ حکام کے مطابق گاؤں کے تقریباً 150 گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جن میں سے کئی اب رہائش کے قابل نہیں رہے۔
ایک مقامی رہائشی مارک لیفیور نے، جن کے گھر کی بالائی منزل مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، بتایا: "ایسا لگ رہا تھا جیسے کچن کے اوپر سے کوئی مال گاڑی گزر رہی ہو۔ ہمیں تہہ خانے تک جانے کا موقع ہی نہیں ملا۔ ہم سیڑھیوں کے نیچے دبک گئے اور دعا کرتے رہے کہ دیواریں قائم رہیں۔”
امدادی کارروائیوں کے لیے 60 فائر فائٹرز اور ریسکیو ٹیمیں رات بھر ملبے میں پھنسے لوگوں کو تلاش کرتی رہیں۔ زیادہ تر زخمیوں کو معمولی چوٹیں آئیں، تاہم دو افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
فرانسیسی محکمہ موسمیات کے ماہرین بھی اس تباہی کی شدت دیکھ کر حیران ہیں۔ اگرچہ فرانس میں شدید طوفان معمول کی بات ہیں، لیکن اتنی طاقتور ٹورنیڈو شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ محکمہ موسمیات نے خطے کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا تھا، لیکن طوفان کی سمت اور اس کی تباہ کن رفتار پیش گوئی سے کہیں زیادہ تھی۔
علاقے میں بجلی کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے اور پورا گاؤں اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے قریبی کمیونٹی سینٹر میں عارضی پناہ گاہ قائم کر دی ہے، تاہم بہت سے لوگ اپنا سامان بچانے کے لیے گھروں کے ملبے کے پاس ہی رکنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
بحالی کا کام ایک طویل عمل ہوگا۔ انشورنس کمپنیاں منگل کو نقصانات کا تخمینہ لگانے پہنچیں گی، لیکن گاؤں کے لوگوں کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج راستوں کو صاف کرنا ہے تاکہ امدادی سامان پہنچ سکے۔
گاؤں کے میئر نے تباہ حال ٹاؤن ہال کا معائنہ کرتے ہوئے کہا: "ایسا لگتا ہے جیسے یہاں بمباری ہوئی ہو۔ ہم گھر تو دوبارہ تعمیر کر لیں گے، لیکن ان چند منٹوں میں جو سکون اور تحفظ کا احساس ہم سے چھین لیا گیا، اسے لوٹانا بہت مشکل ہوگا۔”
