انٹرپول نے 40 ممالک کے ساتھ مل کر ایک بڑے آپریشن کے دوران مغربی افریقہ سے تعلق رکھنے والے سائبر کرائم نیٹ ورکس کے 1,000 سے زائد مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ "آپریشن جیکل III” نامی یہ کارروائی پانچ ماہ تک جاری رہی، جس کا مقصد دنیا بھر میں اربوں ڈالر کی دھوکہ دہی میں ملوث منظم گروہوں کا نیٹ ورک توڑنا تھا۔
اس آپریشن کا مرکزی ہدف "بلیک ایکس” جیسے بدنام زمانہ گروہ تھے، جن کی جڑیں نائجیریا میں ہیں۔ حکام نے کارروائی کے دوران 3 ملین ڈالر سے زائد کی غیر قانونی رقم ضبط کی اور 700 سے زیادہ بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں۔ یہ محض چھوٹے موٹے دھوکے بازوں کی پکڑ دھکڑ نہیں، بلکہ ان مالیاتی ذرائع پر کاری ضرب ہے جو ان مجرمانہ نیٹ ورکس کو زندہ رکھتے ہیں۔
یہ گروہ اب سادہ ای میل فراڈ سے نکل کر جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہے ہیں۔ تفتیش کاروں کے مطابق، ملزمان نے منی لانڈرنگ کے لیے کرپٹو کرنسی کا استعمال بڑھا دیا ہے، جس سے روایتی بینکنگ نظام کے لیے مشکوک ٹرانزیکشنز کو پکڑنا مشکل ہو گیا تھا۔ اب پولیس کی حکمت عملی ان کے بینک اکاؤنٹس بند کرکے ان کے منافع کے چکر کو ختم کرنا ہے۔
انٹرپول کے ایک ترجمان نے کہا کہ "یہ گرفتاریاں ثابت کرتی ہیں کہ یہ منتشر مجرم نہیں، بلکہ ایک منظم ڈھانچہ ہے جو سائبر کرائم کو کم خطرے اور زیادہ منافع والے کاروبار کے طور پر چلاتا ہے۔”
یہ کامیابی نائجیریا، گھانا، آئیوری کوسٹ اور مغربی ممالک کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ کا نتیجہ ہے۔ برسوں تک ان گروہوں نے مختلف ممالک کے قوانین کے درمیان موجود خلا کا فائدہ اٹھایا، لیکن اب بین الاقوامی تعاون نے ان کی پہنچ کو محدود کر دیا ہے۔
اگرچہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے، مگر سائبر سیکیورٹی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ خطرہ ٹلا نہیں۔ ایک نیٹ ورک ٹوٹنے پر کئی چھوٹے اور زیادہ تیز رفتار گروہ دوبارہ سر اٹھا لیتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے جدید ٹولز تک آسان رسائی نے نئے مجرموں کے لیے راہ ہموار کر دی ہے۔
فی الحال تفتیش کار ضبط شدہ ڈیٹا کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ اس ڈیٹا سے ملنے والے سراغ ان بڑے سرغنوں تک پہنچنے میں مدد دیں گے جو اب بھی پردے کے پیچھے سے یہ نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔ یہ گرفتاریاں ایک بڑی جنگ کا پہلا مرحلہ ہیں، جس کا حتمی نتیجہ ڈیجیٹل دنیا کو محفوظ بنانے پر منحصر ہے۔
